.

سمجھوتے کے بغیر شام میں آپریشنل اہداف کی تقسیم کا امریکی اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف سرگرم امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے سربراہ جنرل اسٹیفن ٹاأنسنڈ نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں شام کے شہر تدمر میں شامی اور روسی فوج کو شکست دے کر شہر قبضہ کرنے والی تنظیم کو امریکی فضائیہ نے وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے اسدی فوج اور اس کی حلیف روسی فوج کو تدمر سے بھگا دیا تھا مگر امریکی فضائیہ نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے داعش کو وہاں سے نکال دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل ٹاؤن سنڈ نے بتایا کہ تدمر پر قبضے کے بعد داعش نے روس اور شامی فوج کے چھوڑے گئے فضائی دفاعی نظام پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ داعش روسی اور شامی فوج کے بڑے ہتھیاروں کو دہشت گردی کے مقاصد اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرسکتی ہے۔ اس سے قبل کہ داعش روس اور شامی فوج سے چھینا گیا بھاری جنگی ہتھیار استعمال کرتی ہم نے داعش کو تدمر سے باہر نکال دیا۔

جنرل ٹاؤنسنڈ کا کہنا ہے کہ امریکا داعش کے خطرے سے کامیابی سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ تدمر شامی فوج اور روس کی عمل داری والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں عالمی اتحاد کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ روس اور شامی فوج بھی عن قریب اسی نئے اسٹیٹیس پرعمل درامد کریں گے۔ اگر انہوں نے نہ کیا تو امریکا ایسا کرے گا۔ جنرل ٹاؤنسنڈ نے اعتراف کیا کہ شام میں روس اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آپس میں اہداف تقسیم کررکھے ہیں۔

آپریشنل اہداف کی تقسیم

جنرل ٹاؤنسنڈ کے بیان کے بعد امریکا میں صحافتی حلقوں میں کئی قسم کے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شام میں امریکا اور اس کے اتحادیوں،روس اور اسدی فوج کے درمیان کسی قسم کی ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود آپریشنل اہداف کیسے تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ ایک طرف امریکا شام میں دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے اور اعتدال پسند اپوزیشن کی مدد کے لیے کوشاں ہے مگر دوسری طرف شام اور روس کے ساتھ اہداف کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے۔

جنرل ٹاؤنسنڈ نے وضاحت کے ساتھ زور دیتے ہوئے کہا کہ شام میں واشنگٹن اور ماسکو کے اہداف میں کوئی ہم آہنگی اور کوآپریشن نہیں ہے۔ شام میں امریکا اور روس کے الگ الگ آپریشنل اہداف کسی معاہدے کے بغیر ہی جاری ہیں۔

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ حال ہی میں حلب میں ہونے والے فوجی آپریشن کا بھی باریکی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ اس کے علاہ حلب کی صورت سے آْگاہی کے لیے انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ حلب میں ایک طرف خون ریز خانہ جنگی کے مظاہر دیکھنے میں آئے اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کارروائیاں جاری رہیں۔

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ اسد رجیم اور اس کے حلیف حلب پر قبضے کے بعد نئے آپریشنل اہداف پر توجہ مرکوز کریں گے۔

ترکی اور الرقہ

جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ کے شام اور داعش کے بارے میں خیالات امریکی صدر باراک اوباما کے عالمی اتحادی فوج میں خصوصی ایلچی برٹ ماکگرک کے خیالات سے ہم آہنگ ہیں۔ امریکی اتحادی فوج کے سربراہ جنرل ٹاؤنسنڈ نے بغداد سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز شام می جمہوری فورسز کو الرقہ کی طرف پیش قدمی میں مدد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ شام میں اپوزیشن فورسز پہلے ہی داعش کے گڑھ کی طرف پیش قدمی کررہی ہیں۔ اس وقت اپوزیشن فورسزا الرقہ کو دوسرے شہروں سے الگ تھلگ کرنے کے مرحلے میں داخل ہیں۔ انہوں نے الرقہ کو جلد از جلد داعش سے چھڑانے کے لیے فوجی آپریشن میں تیزی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ داعش نہ صرف شام کے اندر بلکہ دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ داعش کی الرقہ میں شکست عالمی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

جنرل ٹاؤنسنڈ نے کہا کہ ترکی نے الرقہ میں داعش کے خلاف فوجی آپریشن میں شمولیت میں دلچسی ظاہر کی ہے۔ اتحادی ممالک ترکی کے داعش مخالف آپریشن میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا داعش کے خلاف آپریشن دو ماہ سے جاری ہے مگر ترکی نے عمل طور پر ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

امریکی فوجی عہدیدار نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو عین العرب میں داعش اور عرب جنگجوؤں کو اسلحہ کی سپلائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک کی پالیسی کسی مخصوص گروپ کو اسلحہ کی سپلائی نہیں ہے۔