.

’پولیس کی ترغیب کے لیے فلپائنی صدر مجرموں کو خود قتل کرتے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن کے موجودہ صدر روڈریگو دوتیرتی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پولیس کے لیے مثال قائم کرنے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنے ہاتھوں سے مجرموں کو قتل کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت ترین موقف رکھنے والے صدر دوتیرتی کا کہنا ہے کہ جب وہ فلپائن کے ایک شہر کے میئر تھے تب اپنے ہاتھوں سے جرائم پیشہ افراد کو ہلاک کرتے تاکہ پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیے اکسایا جاسکے۔

صدر دوتیرتی نے ان خیالات کا اظہار حال ہی میں تاجروں اور کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے گفت و گو کے دوران کیا جنہوں نے منیلا میں صدر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تھی۔ صدر دو تیرتے نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعد گذشتہ 30 مئی سےاب تک منشیات کے دھندے میں ملوث افراد کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق دوتیرتی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہزاروں افراد کو منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

تاجروں سے بات کرتے ہوئے صدر دوتیرتی نے کہا کہ وہ 20 سال تک Davao شہر کے میئر رہے۔ جنوبی فلپائن کی یہ سب سے بڑی بلدیہ ہے۔ بلدیہ کے چیئرمین کی حیثیت سے دیگر امور انجام دینے کے ساتھ ساتھ وہ مجرموں کو بھی خود ہی قتل کرتے تاکہ پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اکسایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھیں گے کہ آپ خود ہی مجرموں کو کیوں ہلاک کرتے تھے تو میں انہیں جواب دوں گا کہ میں مجرموں کی مکمل بیخ کنی کرنا چاہتا تھا اور میں نے ایسا کرکے دکھایا۔

ان کا کہنا ہے کہ میں میئر کی حیثیت سے ایک موٹرسائیکل پر شہروں میں گھوما کرتا، لوگوں کے مسائل معلوم کرتا اور ان کے حل کی کوشش کرتا۔ اس لیے جرائم پیشہ افراد کو قتل کرنا میرے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ صدر دوتیرتی نے ڈافاؤ شہر میں میئر کی ذمہ داریاں انجام دینے کے دوران مشتبہ مجرموں کے خلاف مہم جاری رکھی۔ ایک اندازے کے مطابق اس شہر میں 1000 افراد کو مجرم قرار دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔

حالیہ کچھ عرصے سے صدر دوتیرتی ملک میں منشیات کے دھندے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اپنی اس مہم کے دوران وہ نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا سامنا کررہے ہیں بلکہ امریکا جیسے بڑے ممالک کی مخالفت بھی مول لی ہے۔

منشیات کے خلاف مہم کے دوران صدر دوتیرتی اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما کو بھی کھری کھری سنا چکے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر دو تیرتے نے منشیات کے اسمگلروں اور اس کا دھندا کرنے والوں کے خلاف مہم کے دوران 3000 افراد کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔