.

حلب کے بعد یمن اور بحرین بھی آزاد کرائیں گے: پاسداران انقلاب

حلب میں خون کی ندیاں بہانے کو ’فتح مبین‘ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی طاقت ور فوج پاسداران انقلاب کے لیڈروں کی جانب سے شام کے شہر حلب میں خون کی ندیاں بہانے کے بعد خلیجی ممالک میں مداخلت کی گیڈر بھبکیاں دینا شروع کی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے حلب میں قتل عام کو ’تہران‘ اور اس کے کٹھ پتلی بشار الاسد کی عظیم الشان فتح سے تعبیر کرتے ہوئے حلب کی آزادی کا جشن منانا شروع کیا ہے۔ دوسری جانب پاسدارن انقلاب کے عہدیداروں نے اشتعال انگیز بیانات دینا شروع کیے ہیں۔ ایک ایسے ہی بیان میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ حلب کو آزاد کرانے کے بعد اگلی باری یمن اور بحرین کی ہے۔ اسے بھی آزاد کرایا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ نے حلب میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے معصوم شہریوں کے وحشیانہ قتل عام، ان کی گھر بدری اور ظالمانہ پکڑ دھکڑ کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے شامی فوج، روس اور ایران کی فتح قرار دیا ہے۔

اسی سیاق میں پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی’ارنا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلب کی فتح بحرین اور یمن کی آزادی کا نقطہ آغاز ہے۔ سقوط حلب کے بعد ایران کا توسیع پسندانہ پروگرام اگلے مرحلے میں یمن، موصل اور بحرین میں داخل ہوگا۔

ایرانی جنرل نے اشتعال انگیز لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی قوم بھی جلد ہی مخصوص ٹولے کے تسلط سے آزاد ہوگی۔ یمن کے عوام بھی آزادی کا جشن منائیں گے اور موصل کے مکین بھی آزادی اور فتح کا پرچم لہرائیں گے۔ ان سب کے ساتھ اللہ نے آزادی کا وعدہ کر رکھا ہے۔

جنرل سلامی نے یمن کے حوثی باغیوں کی فوجی امداد اور میزائل فراہم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائل کسی بھی علاقے میں دشمن کی تنصیبات کو تباہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حلب میں اسدی فوج کے قبضے کو ’فتح مبینُ قرار دیا۔

ادھر پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر رمضان شریف نے کہا ہے کہ حلب میں فتح ایران کے مزاحمتی پروگرام کی فتح ہے۔ حلب کی فتح کے بعد یمن اور بحرین جیسے تنازعات کے حل کا بھی موقع آگیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ سے بات کرتے ہوئے بریگیڈٰیئر شریف نے کہا کہ ایران فورسز اور اس کی وفادار ملیشیائیں عراق، افغانستان، پاکستان، لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور روسی فوج نے مل کر حلب کو باغیوں سے آزاد کرایا ہے۔

خیال رہے کہ بحرین اور دوسرے خلیجی ملکوں کے خلاف ایران کے دشمانہ لب ولہجے میں اس وقت سے مزید سختی اور شدت آئی ہے جب حال ہی میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے بحرین اور دوسرے خلیجی ملکوں کا دورہ کیا تھا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے خلیجی ریاستوں میں ایرانی مداخلت کی کھل کر مذمت کی تھی جس پر ایران سخت سیخ پا ہے۔