.

تل ابیب کا "حامی".. اسرائیل کے لیے ٹرمپ کا سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایڈوکیٹ ڈیوڈ فریڈمین کو اپنی آئندہ حکومت میں اسرائیل میں امریکا کا سفیر مقرر کیا ہے۔ فریڈمین انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے مشیر رہے۔ وہ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی آبادکاری کی توسیع کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ فریڈمین دو ریاستی حل کی مخالفت اور اسرائیل میں دائیں بازو کے شدت پسندوں کی جانب جھکاؤ کے سبب جانے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی برادری یہودی بستیوں کی آباد کاری کو غیر قانونی شمار کرتے ہیں اور یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی راہ میں مرکزی رکاوٹ ہے۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی تعداد 26 لاکھ ہے جب کہ ان کے بیچ اسرائیلی بستیوں میں اس وقت 4 لاکھ کے قریب افراد رہتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی ہمنوا بائیں بازو کی امریکی تنظیم "جے اسٹریٹ" نے فریڈمین کے تقرر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک "غیرمحتاط" اقدام قرار دیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام خطے میں امریکی ساکھ اور دنیا بھر میں اس کے اعتبار کے لیے خطرہ ہے۔

"بیت المقدس اسرائیل کا ابدی دارالحکومت "

ڈونلڈ ٹرمپ کی عبوری ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں ڈیوڈ فریڈمین نے باور کرایا کہ "وہ امن کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں.. اور اسرائیل کے ابدی دارالحکومت بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے سے اس کو یقینی بنانے کے حوالے سے پُر امید ہیں"۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتنیاہو سے ملاقات کی تھی اور پھر اس کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کے غیر منقسم دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ نے آٹھ نومبر کو صدارتی انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد اس بیان کو نہیں دُہرایا تاہم ان کی مشیر کیلیان کینوے نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ یہ اقدام ٹرمپ کے نزدیک بڑی ترجیح کا حامل ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فریڈمین امریکا اور اسرائیل کے درمیان "خصوصی تعلق کو برقرار رکھیں گے"۔