.

حلب میں انخلاء کے معاہدے کا احترام یقینی بنایا جائے: ایردوآن

ترکی نے پناہ گزینوں کی میزبانی کے اقدامات شروع کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے شام کے جنگ زدہ علاقے حلب میں محصورین، باغیوں اور ان کے خاندان کے افراد کے محفوظ مقامات کی طرف انخلاء کے حوالے سے طے پائے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی حلب کے پناہ گزینوں کے استقبال کے لیے تیار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ‘ٹویٹر‘ پر اپنی متعدد ٹویٹس میں کہا کہ مشرقی حلب کی کالونیوں میں محصور شامی شہریوں کے انخلاء کے لیے فریقین میں جو معاہدہ طے پایا ہے اس کی پاسداری اور احترام تمام فریقین کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری حلب میں محصور شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچنے میں ان کی مدد کرے اور جنگ بندی معاہدے کو ہرصورت میں یقینی بنایا جائے۔

ترک صدر کاکہنا تھا کہ حلب میں شہریوں کے اںخلاء کا معاہدہ اور جنگ بندی اس لیے کی گئی تاکہ وہاں پر پھنسے بے گناہ اور معصوم شہریوں کی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

حلب کے پناہ گزینوں کے لیے کیمپ قائم

ادھر جمعہ کے روز ترک حکام نے بتایا کہ ترکی نے شام کے اندر ہی حلب کے پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے لیے ایک کیمپ قائم کرنے کا کام شروع کردیا ہے تاہم حلب سے لائے جانے والے زخمیوں اور مریضوں کا ترکی کے اسپتالوں میں علاج کرایا جائے گا۔

جمعہ کے روز دو ترک عہدیداروں نے بتایا کہ ترکی کی سرحد سے ساڑھے تین کلو میٹر اندر دو الگ الگ مقامات پر کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں جن میں 80 ہزار پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

ترکی کے سرکاری امدادی ادارے کے ایک عہدیدار نے ٹیلیفون پر بتایا کہ حلب کے شہریوں کے لیے پناہ گزین کیمپ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کا کام جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حلب سے آنے والے شہریوں کی مدد کے لیے ترک ہلال احمر، شعبہ حادثات اور انسانی حقوق اور ریلیف کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر ادارے پناہ گزینوں کے استقبال میں پیش پیش ہوں گے۔

ترکی کو توقع ہے کہ بشار الاسد اور روس کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت حلب کے 8 ہزار جنگجو اور ہزاروں عام شہری محفوظ مقامات تک منتقل ہوجائیں گے۔

قبل ازیں ترکی میں محکمہ صحت کے زیراہتمام ایمرجنسی سروسز کے چیئرمین حسن ایدنلیک نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ حلب سے 55 زخمیوں اورمریضوں کو علاج کے لیے ترکی پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے جیلوہ غوزو گذرگاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حلب سے لائے گئے زخمیوں میں سے ایک شخص اسپتال پہنچنے سےقبل ہی دم توڑ گیا جب کہ ایک بچے سمیت چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔