.

حلب میں محصور تمام لوگوں کو قتل کردیا جائے:ایرانی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب میں نہتے شہریوں پر قیامت ڈھانے میں معاونت کرنے والے ایرانیوں کو ہزاروں افراد کے بے گناہ قتل کے بعد بھی سکون نہیں ملا۔ ایرانی عہدیدار حلب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد بھی تمام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام کے ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینئر جنرل جواد غفاری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ حلب میں محصور تمام افراد کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

جنرل غفاری، جو پاسداران انقلاب کی قیادت کرنے کے ساتھ ساتھ 16 ملیشیاؤں کے بھی سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب میں کسی شخص کو زندہ چھوڑںے کی ضرورت نہیں ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی عہدیداروں نے اس نوعیت کے متنازع بیانات حلب میں عام شہریوں اور جنگجوؤں کے محفوظ مقامات تک منتقل کیے جانے سے متعلق طے پائے معاہدے پرعمل درآمد میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جنرل غفاری شروع دن سے حلب سے شہریوں کی نقل مکانی کے مخالف رہے ہیں۔ انہوں نے روس پر بھی اس معاملے میں تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ حلب سے عام شہریوں کی نقل مکانی کی آڑ میں حکومت مخالف جنگجو بھی وہاں سے فرار ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترکی اور روس کےدرمیان حلب میں شہریوں اور جنگجوؤں کے انخلاء کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ ایران نے اس معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے من مانی شرائط عاید کی تھیں۔

جنرل جواد غفاری کو شام میں پاسداران انقلاب کے فوجیوں اور ملیشیا کی قیادت کی ذمہ داری اکتوبر 2015ء کو جنرل حسین ھمدانی کی ایک راکٹ حملے میں ہلاکت کے بعد سونپی گئی تھی۔