.

شام میں ایرانی کردار پر تنقید ،تہران میں برطانوی ناظم الامور طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے تہران میں برطانوی سفارت خانے کے ناظم الامور کو ہفتے کے روز طلب کیا ہے اور ان سے برطانیہ کی شام میں ایرانی کردار پر تنقید پر احتجاج کیا ہے۔تہران میں اس ماہ دوسری مرتبہ برطانوی سفارت کاروں کو طلب کیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی عہدہ داروں کے شامی بحران میں اسلامی جمہوریہ کے کردار سے متعلق بیانات اور موقف کے بعد برطانوی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا گیا ہے۔

تہران میں متعیّن برطانوی سفیر نیکولس ہوپٹن اس وقت ایران سے باہر ہیں۔اسی لیے ناظم الامور کو طلب کیا گیا ہے۔ ایران کے اس اقدام سے قبل برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے جمعرات کو لندن میں متعیّن روسی اور ایرانی سفیروں کو طلب کیا تھا اور ان سے ان دونوں کے ملکوں کے شام کے شمالی شہر حلب میں جنگی کردار کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایران نے شامی صدر بشارالاسد کو باغیوں کے خلاف جنگ کے لیے گراں قدر فوجی اور مالی امداد مہیا کی ہے اور اس کی تربیت یافتہ ملیشیاؤں نے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان کی کمک کی بدولت ہی شامی فوج باغی جنگجوؤں پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکی ہے۔

امریکا ،برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک نے روس اور ایران پر حلب میں شہری علاقوں میں تباہ کن بمباری کے الزامات عاید کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ روسی اور شامی فوج اور ان کی اتحادی ایرانی ملیشیاؤں نے بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ اور ایران نے تین ماہ قبل ہی مکمل سفارتی تعلقات بحال کیے تھے لیکن ان کے درمیان حالیہ دنوں میں شام میں ایرانی کردار کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک ہفتہ قبل ہی تہران میں برطانوی سفیر ہوپٹن کو طلب کیا تھا اور ان سے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے اس بیان پر احتجاج کیا تھا جس میں انھوں نے خلیجی اتحادیوں سے کہا تھا کہ برطانیہ ایران کے خطے میں جارحانہ اقدامات کو پسپا کرنے کے لیے مدد دے گا۔ تھریسا مے نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے یہ پیش کش کی تھی۔

یادرہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سنہ 2011ء میں ایرانی مظاہرین کے تہران میں برطانوی سفارت خانے پر دھاوے کے بعد منقطع ہوگئے تھے۔مشتعل مظاہرین نے جوہری پروگرام کی بنیاد پر ایران پر عاید کردہ عالمی پابندیوں میں برطانیہ کے کردار کے ردعمل میں سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔ دونوں ملکوں نے گذشتہ سال ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد بتدریج سفارتی تعلقات بحال کیے تھے لیکن خطے میں ایران کے کردار کی وجہ سے ان میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔