.

یمنی حکومت کا اقوام متحدہ ایلچی سے نئے نقشہ راہ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سے ملک میں قیام امن کے لیے نیا نقشہ راہ ( روڈ میپ) پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ یمنی وزیر خارجہ اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عبدالملک المخلافی نے سعودی دارالحکومت الریاض میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سے ملاقات میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت ان سے نئے نقشہ راہ کی توقع کرتی ہے۔

عبدالملک المخلافی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد پر زوردیا ہے۔اس میں یمن میں پُرامن انداز میں ،مشمولہ اور ملکی قیادت میں عبوری انتقال اقتدار کا عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یمنی عوام کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے یہی ایک قابل عمل آپشن ہے اور حزب اختلاف کی تمام ملیشیاؤں کو اس قرارداد کی پاسداری کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں قیام امن اور تنازعے کے خاتمے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض جائیں گے اور وہ سعودی رہ نماؤں سے مشرق وسطیٰ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے بتایا ہے کہ جان کیری یمن کی صورت حال ،بحران کے سیاسی حل اور قیام امن کے لیے کوششوں کے حوالے سے اپنے سعودی ہم منصب سے تبادلہ خیال کریں گے۔

یمن کے حوالے سے ایک اور یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ حوثی ملیشیا کے وفد نے روسی دارالحکومت ماسکو کا اسی ہفتے دورہ کیا ہے۔دوہفتے میں چین کے بعد حوثی ملیشیا کا یہ دوسرا بین الاقوامی دورہ ہے۔وفد صنعا میں حال ہی میں حوثی باغیوں کی تشکیل کردہ نئی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے کوشاں ہے لیکن روس قبل ازیں یہ اعلان کرچکا ہے کہ وہ یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت ہی کو تسلیم کرتا ہے۔