.

13 ترک فوجی بم حملے میں جاں بحق، 48 زخمی

رجب طیب ایردوآن نے کرد علاحدگی پسندوں کو حملے کا ذمہ دار قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صنعتی شہر قیصریہ میں ہفتے کے روز ایک بم حملے کے نتیجے میں 13 فوجی اہلکار جاں بحق جبکہ 48 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق کار بم حملے میں ایک بس کو نشانہ بنایا گیا جس میں ڈیوٹی مکمل کر کے واپس لوٹنے والے فوجی سوار تھے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے حملے کی ذمہ داری کرد علاحدگی پسندوں پر عائد کی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بم حملہ قیصریہ نام کے وسطی ترک شہر میں واقع ارجیس یونیورسٹی کے باہر ہوا۔ حملے کا نشانہ بننے والی بس قیصریہ شہر کی میونسپل کارپوریشن کی تھی۔ بم حملے کی زد میں ارجیس یونیورسٹی کے باہر موجود کئی عام شہری بھی آئے۔ ترک فوج کے بیان کے مطابق بس قیصریہ کے کمانڈوز ہیڈکوارٹرز سے مختلف شہری علاقوں کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ جاں بحق ہونے والے چھوٹے رینک اور نان کمیشنڈ فوجی اہلکار بتائے گئے ہیں۔

ترکی کے نائب وزیراعظم ویسی کائناک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی"بم حملے کا نشانہ بننے والی بس میں فوجیوں کے ہمراہ چند سویلین بھی سوار تھے۔ کائناک کے مطابق فوجیوں کا تعلق قیصریہ ایئر فورس بریگیڈ سے تھا جو بحران اور مشکل حالات میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

درایں اثنا اناطولیہ نیوز ایجنسی نے اپنے ایک مراسلے میں بتایا کہ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے قیصریہ کی ارجیس یونیورسٹی کے قریب ہونے والے بم دھماکے کی میڈیا کوریج پر سیکیورٹی بنیادوں پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے تاکہ شہری زندگی مزید افراتفری اور خوف و ہراس کا شکار نہ ہو۔ وزیر اعظم ہاؤس کے بقول ایسی صورت حال کی براہ راست میڈیا کوریج دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔

یاد رہے کہ 10 دسمبر کو ترکی میں ایک فٹ بال میچ کے موقع پر دو بم حملوں میں 44 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔