.

لیبی شہر سرت کی داعش سے آزادی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی یونٹی گورنمنٹ کے رہنما فایز السراج سرت شہر کو داعش کے چنگل سے آزاد کرانے کے بعد علاقے میں فوجی کارروائی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سرت، لیبیا میں داعش کا آخری ٹھکانا تھا۔ تاہم نامزد وزیر اعظم سراج نے خبردار کیا کہ جنگجوؤں کے خلاف لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں فایر السراج کا کہنا تھا کہ سرت کے ساحلی شہر میں آٹھ مہینوں سے جاری فوجی کارروائی ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتا ہوں۔ سرت اب داعش سے ازاد شہر ہے۔ فایز سراج کا یہ اعلان حکومت کی وفادار فوج کے علاقے پر دو ہفتوں سے کںٹرول کے بعد سامنے آیا۔

سرت پر کنڑول کا اعلان پہلے پہل پانچ دسمبر کو کیا گیا۔ اس اعلان سے اقوام متحدہ کی حمایت سے بننے والی قومی اتقاق رائے کی حکومت کی اتھارٹی کو سہارا ملا۔ قومی اتفاق رائے کی یہ حکومت اسی سال مارچ کو طرابلس میں قائم کی گئی تھی تاہم مشرقی لیبیا میں قائم حریف انتظامیہ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ نیٹو کی مدد سے ملک پر تین دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے معمرالقذافی کا 2011 میں تختہ الٹنے کے بعد سے لیبیا افراتفری کا شکار چلا آ رہا ہے۔ ملک کے دو مختلف علاقوں میں حریف انتظامیہ سرگرم رہی۔ مکمل طور پر مسلح ملیشیائیں ملک میں تیل کی دولت پر قبضے کے لئے سرگرم ہیں۔ خانہ جنگی اور لاقانونیت کی وجہ سے داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کو ساحلی علاقوں میں قدم جمانے کا موقع ملا۔

طرابلس سے 450 کلومیٹر دور معمر القذافی کے آبائی شہر سرت پر سرکاری فوج کا کںڑول داعش کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ تنظیم کو عراق اور شام میں بری طرح پے در پے شکست کا سامنا ہے۔

فایز السراج نے سرت کی داعش کے کنڑول سے آزادی کا اعلان مراکش میں امن معاہدے پر دستخط کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کا۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ"سرت کا معرکہ سر ہوا، تاہم لیبیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔" انہوں نے مختلف فوجی یونٹوں کو "ایک فوج" بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔