.

حلب میں عالمی مبصرین کی تعیناتی،’یو این‘ میں رائے شماری

قرارداد پر روس کے تحفظات دور کرلیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی سفارت کاروں کے مطابق سلامتی کونسل کے آج سوموار کے روز ہونے والے اجلاس میں شام کے شہر حلب سے شہریوں کے محفوظ انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے عالمی مبصرین کی تعیناتی کے حوالے سے رائے شماری ہورہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل آج ایک نئی قرارداد پر رائے شماری کرے گی جس میں حلب میں شہریوں کے انخلاء کے لیے عالمی مبصرین کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں فرانس نے مجوزہ قرارداد کے حوالےسے روس کے تحفظات سے اتفاق کیا تھا جس کے بعد رائے شماری روک دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیرہ سامنتھا پاور کا کہنا ہے کہ’ توقع ہے کہ حلب میں جنگ جندی کو موثر بنانے اور باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے شہریوں کی محفوظ مقامات تک منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

اقوام متحدہ میں فرانسیسی سفیر فرانسو دولاتر نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ انہوں نے قرارداد کے نئے مسودے پر اپنے ترک ہم منصب سے بات چیت کی ہے۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان قرارداد سے متفق ہوچکے ہیں۔

روسی سفیر فیٹالی چورکین نے کہا کہ ان کا ملک شامی حکومت کی معاونت کررہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ حلب سے شامی شہریوں کے انخلاء کے حوالے سے قرارداد کا جو نیا متن تیار کیا گیا ہے وہ ہم سب کے لیے قابل قبول ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز سلامتی کونسل نے حلب سے انخلاء کے حوالے سے مجوزہ قرارداد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد کے متن میں اہم ترامیم پیش کی تھیں۔ کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے دوران روسی ترامیم کو زیرغور لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اگر ان کی ترامیم کو منظور نہ کیا گیا تو روس حلب میں انخلاء سے متعلق قرارداد کو ویٹو کردے گا۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے پیش کردہ تجاویز میں حلب میں بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد فرانس کی طرف سے پیش کی گئی ہے جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حلب میں شہریوں کا انخلاء محفوظ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کا عملہ تعینات کریں تاکہ محصورین کو غیر جانب دار طریقے سے وہاں سے دوسرے علاقوں میں نکلنے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

ان مطالبات پر مبنی فرانسیسی قرارداد کا مسودہ گذشتہ جمعہ کی شام سلامتی کونسل کے ارکان میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں حلب میں ہزاروں محصورین کے پھنس جانے اور ان کی ابتر انسانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔