.

سعودی عرب : اردن میں دہشت گردی کے تباہ کن حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اردن میں دہشت گردی کے تباہ کن حملے کی مذمت کی ہے اور اس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو اتوار کے روز جنوبی شہر الکرک میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایک پیغام بھیجا ہے۔انھوں نے اس میں مجرمانہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

اردن کے جنوبی شہر الکرک میں مسلح افراد نے پہلے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا تھا اور پھر الکرک کے قلعہ پر دھاوا بولا تھا جس کے نتیجے میں ایک غیرملکی خاتون سیاح سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں سات سکیورٹی اہلکار اور دو مقامی شہری تھے۔خاتون سیاح کا تعلق کینیڈا سے تھا۔

اردن کی حالیہ تاریخ میں دہشت گردوں کا یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا اور اس میں ستائیس افراد زخمی ہوئے تھے۔مسلح حملہ آور الکرک کے قلعہ میں بند ہوگئے تھے اور ان کی کئی گھنٹے تک اردنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہی تھیں۔

اردنی حکومت نے مقامی میڈیا کی ان نیوز رپورٹس پر کسی تبصرے سے انکار کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حملہ آوروں نے قلعہ میں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔تاہم انھیں بعد میں بازیاب کرا لیا گیا تھا۔اردن کی سکیورٹی فورسز کو قلعے پر دھاوے کے بعد حملہ آوروں کے ٹھکانے سے خودکش جیکٹس ،ہتھیار اور بڑی مقدار میں گولہ بارود ملا تھا۔

ایک مقامی اخبار الغد کی رپورٹ کے مطابق تین مسلح افراد ایک کار میں سوار ہو کر آئے تھے اور انھوں نے پولیس کی گشتی پارٹی پر فائرنگ کردی تھی جس سے سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔پولیس کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آور بھی زخمی ہوئے تھے۔کرک کے گورنر نے کہا تھا کہ یہ حملہ دہشت گردوں کے ایک گروپ نے کیا تھا۔