.

ٹرمپ ہی امریکا کے صدر ہوں گے، الیکٹوریل کالج نے فیصلہ سنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سرکاری انتخابی ادارے’الیکٹوریل بورڈ‘ کی جانب سے گذشتہ روز کی جانے والی رائے شماری میں ری پارٹی کے حمایت یافتہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر ملک کا صدر قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل 19 دسمبر بہ روز سوموار الیکٹوریل بورڈ کی جانب سے ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سے کسی ایک کی یقینی کامیابی کے حوالے سے رائے شماری کا اہتمام کیا گیا۔۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ الیکٹوریل بورڈ ڈونلڈ ٹرمپ ہی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ حسب توقع بورڈ میں ہونے والی رائے شماری میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی۔

نائب صدر مائیک بنس نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر ایک ٹویٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکٹوریل بورڈ سے کامیاب قرار دیے جانے پرمبارک باد پیش کی۔ الیکٹوریل بورڈ کے اعلان کے بعد نو منتخب صدر کی کامیابی کا آخری فیصلہ بھی سنا دیا گیا،جس کے بعد ٹرمپ کو اب باضابطہ طور پر ملک کا صدر تسلیم کیا گیا ہے۔

امریکا میں8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں غیر متوقع طور پر ری پبلیکن پارٹی کے حمایت یافتہ ڈونلڈ ٹرمپ نئے صدرمنتخب ہوگئے تھے۔ ٹرمپ کے اںتخاب کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑ گئی تھی کہ بعض غیرملکی طاقتوں نے ٹرمپ کو جتوانے کے لیے انتخابی عمل پراثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ آج سوموار کے روز امریکی الیکٹوریل کالج کا اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں آٹھ نومبر کو جتینے والے صدارتی امیدوار کی کامیابی کا حتمی اعلان کیا جائے گا جس کے بعد نتائج کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حالیہ ایام میں امریکا کےسیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کو متنازع بنانے کے لیے نتائج تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔

سرکاری نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹوریل کالج کے 306 مندوبین کی حمایت حاصل کی تھی جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی رہ نما ہیلری کلنٹن الیکٹوریل کالج کے 232 مندوبین کی حمایت حاصل کر پائی تھیں۔ اس کے باوجود ہیلری کے حامیوں نے ان کی شکست قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن نے تیس لاکھ اضافی ووٹ حاصل کیے ہیں۔

حال ہی میں امریکا میں change.org نامی تنظیم نے بھی انتخابی نتائج میں تبدیلی کے لیے عوامی دستخطوں کے حصول کی مہم شروع کی تھی۔ اس مہم میں 50 لاکھ شہریوں کے دستخط لیے گئے ہیں۔ عوامی پٹیشن میں الیکٹوریل کالج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں ہونے والی گڑ بڑ کا تنازع نمٹانے کے لیے ہیلری کلنٹن کی جیت کا اعلان کرے۔ اس وقت امریکا کی کل چار ریاستوں کے مقامی نمائندوں نے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج انیس دسمبر کو الیکٹوریل کالج جیتنے والے امیدوار کی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کرے گا۔ توقع ہے کہ الیکٹوریل کالج ڈونلڈ ٹرمپ ہی کی کامیابی کو حتمی قرارداد دے گا۔