.

امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا وعدہ ، اسرائیلی سفیر کی تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں اسرائیلی سفیر نے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے سے متعلق منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدے کی تائید کی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس ارادے کا اظہار طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔

اسرائیلی سفیر رون ڈیرمر کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے ڈیوڈ فریڈمین کو اسرائیل میں آئندہ امریکی سفیر کے طور پر چُننے کے تقریبا ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ فریڈمین اسرائیل کے بڑے حامی ہونے کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے منتقل کرنے کو سپورٹ کرتے ہیں۔

اسرائیلی سفارت خانے میں منعقد ایک تقریب میں ڈیرمر کا کہنا تھا کہ امریکی سفارتی مشن کی منتقلی "امن کی جانب ایک بڑا قدم ہوگی" اور عرب دنیا کو ہر گز غضب ناک نہیں کرے گی۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے اس وعدے پر عمل درامد کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی ختم ہوجائے گی اور اسلامی دنیا کے غم و غصے اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا ہوگا۔

اس سے قبل ایک اہم اور نمایاں فلسطینی ذمے دار صائب عریقات نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اسرائیل کے ساتھ امن کے کسی بھی امکان کو تباہ کر دے گی۔

امریکی سپورٹ سے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے امن بات چیت 2014 میں ناکام ہو گئی تھی۔