.

انقرہ میں سفیر کے قتل کے بعد ماسکو میں سفارت کار قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں سوموار کی شام ایک تقریب کے دوران گولیاں لگنے سے روسی سفیر کی ہلاکت کے بعد ماسکو میں بھی ایک ترک سفارت کار کو اس کی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انقرہ میں روسی سفیر انڈریے کارلوف کے قتل کے بعد ماسکو میں ایک 56 سالہ سفارت کار Peter Pilshikov نامی ایک سفارت کار کی لاش اس کی رہائش گاہ سے ملی ہے۔

روسی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو روسی سفارت کار بولشیکوف کی لاش اس کے گھر سے ملی۔ خون میں لت پت لاش کے قریب سے ایک پستول بھی ملی ہے۔ یہ پستول بھی خون میں لتھڑی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ لاش کے قریب سے گولیوں کے دو خالی خول بھی ملے ہیں۔

روسی ٹی وی کی رپورٹ میں حکام کے حوالے سے سفارت کار کے قتل کی تصدیق کی گئی ہے تاہم مقتول کے عہدے کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول سفارت کار ماضی میں بولیویا میں سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لاطینی امریکا میں روس کے اہم سفارتی عملے کا حصہ رہنے کے ساتھ وزارت خارجہ میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

اخبار ’ڈیلی میرر‘ کے مطابق تفتیشی اداروں نے بولشیکوف کے قتل کےاسباب ومحرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

روس کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ولادی میر زیرین ووسکی نے الزام عاید کیا ہے کہ انقرہ میں روسی سفیر کے قتل میں برطانیہ کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انقرہ میں روسی سفیر کے قتل کی سازش میں برطانیہ ملوث ہے جو روس اور ترکی کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

روسی سیاست دان کا کہنا ہے کہ سفیر کے قتل کے ذریعے ترک صدر کے دورہ ماسکو کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ صدر طیب ایردوآن جلد ہی ماسکو کے دورے پر آنے والے تھے مگر سفیر کے قتل کے ذریعے ان کے دورہ روس کو ناکام بنایا گیا ہے۔


روسی ذرائع ابلاغ میں ماسکو میں مبینہ طورپر قتل ہونے والے روسی سفارت کار کے قتل کی خبر کو نمایاں جگہ نہیں دی گئی۔ سفارت کار کی موت کے حوالے مختلف قیاس آرئیاں گردش کررہی ہیں۔ ایک قیاس یہ ہے کہ سفارت کار کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس نے خود کشی کی تھی۔