.

جرمن پولیس کو برلن حملے کے الزام میں تیونسی نوجوان کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن پولیس دارالحکومت برلن میں ٹرک بم حملے کے الزام میں ایک تیونسی نوجوان کی تلاش میں ہے۔اس کے بارے میں شُبہ ہے کہ اسی نے سوموار کی شب برلن کی کرسمس مارکیٹ پر ٹرک چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور کم سے کم پچاس زخمی ہوگئے تھے۔

دو جرمن اخبارات الجمین زیتونگ اور بلد میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس شخص کی عمر اکیس اور تیئیس سال کے درمیان ہے اور وہ تین مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔البتہ جرمن حکام نے اس کانام انیس العامری بتایا ہے۔

پولیس کو برلن کے وسط میں واقع مصروف علاقے میں حملے کے لیے استعمال کیے گئے ٹرک کے کیب سے پناہ گزینوں کے دفتر کے کاغذات ملے تھے اور یہ ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے پڑے ہوئے تھے۔ان ہی سے اس مشتبہ حملہ آور کی شناخت کی گئی ہے۔

پولیس اس مشتبہ تیونسی کی تلاش میں ہے جو جرمنی میں پناہ کی تلاش میں گیا تھا۔وہ تیونس کے جنوبی شہر تطاوين میں پیدا ہوا تھا۔داعش نے منگل کی شب خبررساں ایجنسی اعماق کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس ٹرک حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے ایک فوجی نے برلن میں یہ حملہ کیا تھا۔تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ اب تک واقعے میں ملوّث شخص کا کچھ اتا پتا معلوم ہو سکا ہے۔

یاد رہے کہ داعش نے 14 جولائی کو فرانس کے شہر نیس میں اسی انداز میں ایک ٹرک حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔نیس میں ایک تیونسی ڈرائیور نے لوگوں پر اپنا ٹرک چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں چھیاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تیونس کو جہادی جنگجوؤں کا سب سےبڑا برآمد کنندہ ملک سمجھا جاتا ہے۔تیونس سے تعلق رکھنے والے قریباً ساڑھے پانچ ہزار جنگجو شام ،عراق اور لیبیا میں مختلف گروپوں کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں۔