.

حلب میں غیرملکی دہشت گردوں کو شکست ہوئی: مفتی حسون

حلب میں قتل عام میں معاونت پرایران کا شکریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرکاری مفتی علامہ بدرالدین حسون نے حلب شہر میں خون کی ہولی کھیلنے کو دہشت گردی کے خلاف دمشق اور اس کے اتحادیوں کی عظیم الشان فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حلب میں دوسرے ملکوں سے آئے دہشت گردوں کو شکست فاش سے دوچار کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مفتی حسون نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ ایران کے دوران تہران میں جامع مسجد امام خمینی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے حلب اور اہالیان حلب کے حوالے سے وہی لب ولہجہ اختیار کیا جو گذشتہ جمعہ کو ایران کے ایک دوسرے شدت پسند مبلغ نے کیا تھا۔ آیت اللہ محمد امامی کاشانی کا کہنا تھا کہ ’حلب میں مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو شکست ہوئی‘۔

بالکل اسی طرح مفتی حسون نے کہا کہ حلب پرشام کی حامی قوتوں اور ایران نواز عناصر کا قبضہ بیرون ملک سے آئے دہشت گردوں کی شکست ہے۔ یہ دہشت گرد دوسرے ملکوں سے اہل شام کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے۔ شام کے سرکاری مفتی نے حلب پر اسدی فوج کے قبضے میں معاونت کرنے پر ایرانی حکومت اور فوج کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

مفتی حسون نے اپنے خطاب میں شامی اپوزیشن کو بار بار ’دہشت گرد‘ کے القابات دیے۔ انہوں نے حلب میں انسانیت سوز مظالم ڈھانے ،لاکھوں شہرہوں کو شہر بدر کرنے، شہر کی اینٹ سے اینٹ بجانے کوشام کی فتح کا نقطہ آغاز قرار دیا۔

مفتی حسون نے حلب سے لاکھوں شہریوں کے انخلاء کو دہشت گردوں کا فرار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حلب سے نقل مکانی کرنے والے وہ لوگ ہیں جو شامی قوم کے قتل عام کے لیے دوسرے ملکوں سے آئے تھے۔

مفتی حسون کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام اور عراق میں جنگی جرائم کے ایرانی سرغنہ جنرل قاسم سلیمانی کو بھی حلب میں دیکھا گیا ہے۔ جنرل سلیمانی کی تازہ تصاویر میں انہیں پرانے حلب شہر، شہر کے تاریخی قلعے اور اس کے اندر موجود کالونیوں میں دیگر جنگجوؤں کے ہمراہ گھومتے پھرتے دیکھا گیا ہے۔