.

روسی سفیر کی میت دیکھ کر والدہ اور بیوہ غم سے نڈھال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں قتل کر دیے جانے والے روسی سفیر آندرے کارلوف کی میت منگل کے روز ماسکو پہنچی تو ان کی والدہ اور بیوہ کی حالت غیر ہو گئی۔ کارلوف کو پیر کے روز انقرہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

وینوکوو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روسی فوجیوں کے کاندھوں پر کارلوف کی میت کا تابوت اتارا گیا تو وہ روسی پرچم سے ڈھانپا ہوا تھا۔ روسی سفیر کی والدہ ماریا جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور شدت غم سے نڈھال ہو گئیں۔ اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور ان کے ترک ہم منصب مولود چاوش اوگلو نے مقتول سفیر کی والدہ کو سنبھالا۔

آنسو اور گلنار

روسی سفیر کی اہلیہ مارینا انقرہ میں اپنے شوہر کے قتل کے بعد نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو گئی تھیں جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ کارلوف کی میت کے ساتھ ماسکو پہنچیں تو ان کے ساتھ سفارت خانے کی جانب سے ایک ڈاکٹر اور ایک ماہر نفسیات بھی تھا۔

انقرہ کے ہوائی اڈے پر کارلوف کی بیوہ ہاتھ میں گلنار کے سرخ پھول تھامے اپنے شوہر کی میت کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔

بیوہ کا بیان

ترکی کے انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ خصوصی گفتگو میں مارینا نے اپنے شوہر کے قتل کے وقت خوف ناک لمحوں کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ "میں دیگر لوگوں کےساتھ زمین پر لیٹ گئی تھی ، نمائش میں بہت سے لوگ تھے۔ ہم سب ہی اس واقعے پر دہشت کا شکار تھے۔ ہسپتال کے راستے میں میرے حواس کچھ بحال ہوئے اور مجھے یقین تھا کہ میرے شوہر کی موت واقع ہو چکی ہے.. انہیں گیارہ گولیاں لگی تھیں۔"

مارینا کے مطابق انقرہ کے میئر اور وزارت صحت کے متعدد ذمے داران اس وقت ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ اپنے شوہر کے بارے میں مارینا کا کہنا تھا کہ " انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا.. ان کو کسی نے دھمکی بھی نہیں دی تھی.. ہم نمائش میں جا رہے تھے اور یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا"۔

دونوں صدور کے بیانات

روسی صدر ولادیمر پوتن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن نے روسی سفیر پر حملے کو "اشتعال انگیزی" قرار دیا جس کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر 2015 میں ترکی کی جانب سے شام میں روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جو بعد ازاں پھر سے معمول پر آ گئے۔

ولادیمر پوتن کا یہ بھی کہنا تھا کہ انقرہ میں سفیر کا قتل شام کے تنازع کا حل تلاش کرنے کے سلسلے میں ترکی اور روس کے زیر قیادت کی جانے والی حالیہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کاوش ہے۔
ایردوآن کی جانب سے دہشت گردی کی مذمت

اس سے قبل منگل کے روز ترک صدر ایردوآن انقرہ کے ہوائی اڈے پر تعزیتی تقریب میں شریک نہیں ہو سکے۔ وہ استنبول میں آبنائے باسفورس کے نیچے بنائی گئی سرنگ کی افتتاح تقریب میں موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ " یقینا دہشت گرد اس امت کو تقسیم کرنے میں ہر گز کامیاب نہ ہو سکیں گے"۔

ادھر ترک وزیر خارجہ کی جانب سے منگل کے روز فتح اللہ گولن کے ارکان پر مشتمل گروپ پر الزام عائد کیا گیا کہ روسی سفیر کے قتل کے پیچھے اس گروپ کا ہاتھ ہے۔

9