.

شام میں ایران اور روس کے مشترکہ فوجی ہیڈ کوارٹر کا قیام

دونوں ممالک ''دہشت گردی'' سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کارروائیاں کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے جنگ زدہ شام میں روس کے ساتھ مل کر قائم کیے گئے ایک مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹر کا انکشاف کیا ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ کہاں قائم کیا گیا ہے۔

شامخانی نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے نمائندے کے تہران کے دورے اور ان کی ایرانی عہدہ داروں سے ملاقاتوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ''ہم نے خطے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔یہ سفارتی اور عملی کام ہے۔اس لیے بعض رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے کونسلنگ کی ضرورت ہے''۔

ایران کی ایک نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق شامخانی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا:'' صدر پوتین کے نمائندے کا دورہ اسی فریم ورک کے تحت تھا۔ہم نے شام میں شامی فوج اور مزاحمتی قوتوں کی مدد سے روس کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ فوجی ہیڈ کوارٹر قائم کیا ہے۔ہم کونسلنگ کی خدمات بھی مہیا کررہے ہیں''۔

انھوں نے روس اور عراق کے ساتھ فوجی تعاون کے حوالے سے بتایا کہ ''ہم دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے عراق ،شام ،ایران اور روس کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی اقدام کررہے ہیں۔ایران کی فضائی حدود میں روسی لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی اسی زمرے میں آتا ہے''۔

علی شامخانی نے مزید بتایا ہے کہ روسی صدر کے نمائندے نے خطے کی نئی صورت حال کے پیش نظر متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔یہ فوجی اور سیاسی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے بارے میں ہیں۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ہم شام کو ایک متحد ملک کے طور برقرار رکھنے کے لیے بہت کوششیں کررہے ہیں۔ہم نے ان تجاویز پر بات چیت کی ہے اور ایک سمجھوتے پر متفق ہوگئے ہیں''۔

واضح رہے کہ ایران اور روس کی فوجی امداد کی بدولت شامی صدر بشارالاسد کو اپنے اقتدار کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو سنبھالا دینے میں نمایاں مدد ملی ہے۔شامی فوج حال ہی میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کی مدد اور روسی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے میں باغیوں کو پانچ سال کے بعد شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

ایران نے سنہ 2011ء کے اوائل میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی سے اپنی مداخلت کا آغاز کیا تھا۔پھر اپنے فوجی مشیر شامی فوج کی معاونت کے لیے بھیجے تھے اور اس کے بعد شام کے باغی گروپوں سے لڑائی کے لیے شیعہ ملیشیاؤں کو بڑی تعداد میں میدان جنگ میں جھونک دیا تھا۔

حلب میں حالیہ جنگ بندی سے قبل یہ شیعہ جنگجو برسرزمین باغیوں سے لڑتے رہے ہیں اور فضا سے روس کے لڑاکا طیاروں باغیوں کے ٹھکانوں اور ان کے زیر قبضہ علاقوں میں شہری آبادی پر بمباری کرتے رہے ہیں۔روس نے 2014ء کے آخر میں اول اول داعش کے خلاف کارروائی کے نام پر شام میں فوجی مداخلت کی تھی مگر اس کے لڑکا طیاروں نے بہت جلد مغرب کے حمایت یافتہ باغی گروپوں اور عام شہریوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانا شروع کردیا تھا اور اب وہ شامی حکومت اور ایران کی حمایت میں ان تمام گروپوں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔

یادرہے کہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ملک کی نصف سے زیادہ آبادی اس وقت دربدر ہے اور ان میں نصف یعنی چالیس سے پچاس لاکھ کے لگ بھگ شامی شہری پڑوسی ممالک ترکی ،اردن ،لبنان میں مہاجر کیمپوں یا شہروں میں مقیم ہیں۔