.

کیا ایران کا آیندہ سپریم لیڈر ایک 'کریمنل' ہوگا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران سے تعلق رکھنے والے ایک حکومت مخالف صحافی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایک ''جرائم پیشہ'' شخص سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا آیندہ جانشین ہوگا؟

ایرانی صحافی اکبر گنجی نے امریکی اخبار ہفنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں ایران کے سابق پراسیکیوٹر جنرل اور شورائے نگہبان کے رکن ابراہیم رئیسی کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''علی خامنہ ای کی صحت کے تعلق سے بہت سی افواہیں زیر گردش ہیں۔بے شک وہ بہ ذات خود اپنے جانشین کے انتخاب میں اہم کردار ادا کریں گے''۔

وہ لکھتے ہیں:'' عدلیہ کے سابق اور موجودہ سربراہان کے علاوہ خامنہ ای کے بیٹے کا ان کے ممکنہ جانشین کے طور پر نام لیا جارہا ہے لیکن رئیسی کا نام بھی ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے''۔

لیکن گنجی نے ان کی ایک مجرمانہ سرگرمی کا تذکرہ کیا ہے۔یہ رئیسی کی کسی گفتگو کی آڈیو ٹیپ ہے جس سے ان کی شہرت بری طرح مجروح ہوئی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''گذشتہ اگست میں آیت العظمیٰ منتظری کے بڑے بیٹے احمد منتظری نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پرانی آڈیو ٹیپ پوسٹ کی تھی۔یہ ٹیپ ان کے والد اور 1988ء میں سیاسی قیدیوں کو ٹھکانے لگانے کی ذمے دار کمیٹی کے درمیان گفتگو پر مشتمل تھی۔

انٹرنیٹ پر اس ٹیپ کی بڑی تیزی سے خوب تشہیر ہوئی تھی اور یہ ایران میں بحث ومباحثے کا بڑا موضوع بن گئی تھی۔حتیٰ کہ کم وبیش تمام سینئر ایرانی عہدے داروں کو اس کے مواد کے بارے میں اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا پڑی تھی۔

مذکورہ کمیٹی ایران میں ''مرگ کمیٹی'' کے نام سے جانی جاتی تھی اور رئیسی اس کے رکن رہے تھے۔ اکبر گنجی مزید تحریر کرتے ہیں کہ '' 1988ء میں سیاسی قیدیوں کا تہ تیغ کیا جانا بہت ہی خوف ناک جرائم میں سے ہے لیکن احمد منتظری نے اس سال کی آڈیو ٹیپ شائع کرکے دراصل ایرانی عوام ،سیاسی دھڑوں اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ایران کے سخت گیر ایک مجرم کو خامنہ ای کے جانشین کے طور پر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں''۔