.

کیا فیس بُک نے وٹس اپ کے انضمام سے متعلق یورپی کمیشن سے جھوٹ بولا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کمیشن فیس بُک کے خلاف صارفین کو گمراہ کن اطلاع مہیا کرنے پر تحقیقات کررہا ہے۔فیس بُک نے موبائل میسجنگ سروس وٹس اپ کو ضم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یورپی یونین کے انتظامی ادارے نے منگل کو فیس بُک کو 31 جنوری تک اعتراضات کا جواب دینے کی مہلت دی ہے۔فیس بُک نے دو سال قبل کمیشن کو وٹس اپ کے انضمام کی اطلاع دی تھی۔

یورپی کمیشن کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اس طرح فیس بُک اپنے صارفین کے اکاؤنٹس کو وٹس اپ کے اکاؤنٹس کے ساتھ میچ کرسکتی ہے۔کمپنی نے 2014ء میں کہا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتی ہے لیکن فیس بُک کی اگست کی سروس اور پرائیویسی کی نئی شرائط وضوابط کے مطابق وہ ایسا کرسکتی ہے۔

یورپی یونین کی مسابقتی کمشنر مارگریٹ ویسٹیگر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کمیشن کے ابتدائی جائزے کے مطابق فیس بُک نے تحقیقات کے دوران وٹس اپ کے حصول سے متعلق نامکمل یا گمراہ کن معلومات فراہم کی تھیں۔تاہم فیس بُک اب بھی اس کا جواب داخل کرسکتی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''کمپنیاں انضمام کے وقت کمیشن کو ٹھیک ٹھیک معلومات فراہم کرنے کی پابند ہیں۔انھیں اس ذمے داری کو سنجیدگی سے پورا کرنا چاہیے''۔اگر فیس بُک پر عاید کردہ یہ الزام درست ثابت ہوجاتا ہے تو اس پر اس کی آمدن کا ایک فی صد جرمانہ عاید کیا جاسکتا ہے۔

فیس بُک کی اگست کی اپ ڈیٹس کے مطابق وٹس اپ کے فون نمبرز اور فیس بُک صارفین کی شناخت کا ایک دوسرے سے تعلق جوڑا جاسکتا ہے۔اس سے فیس بُک پر دوستی سے متعلق بہتر تجاویز کی پیش کش ہوسکتی ہے یا وٹس اپ کے صارف کے فیس بُک صفحے پر زیادہ متعلقہ اشتہارات نمودار ہوسکتے ہیں۔

یورپی یونین کی ان تحقیقات میں براہ راست قصور وار قرار نہیں دیا جاتا ہے بلکہ کمپنیوں کو متعلقہ دستاویزات کے جائزے ،تحریری جواب دینے یا زبانی سماعت کی درخواست دینے کا حق دیا جاتا ہے اور پھر ان کے خلاف فیصلہ سنایا جاتا ہے۔