.

جرمنی کا 20 دہشت گردوں کو تیونس کے حوالے کرنے کا اعلان

جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تیونسی صدر السبسی سے ٹیلیفون پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ ان کی حکومت تیونس کو مطلوب 20 افراد تیونسی حکومت کےحوالے کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسز میرکل نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز تیونسی صدر الباجی قاید السبسی سے ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران کیا۔ اس موقعے پر دونوں رہ نماؤں میں جرمنی میں پناہ حاصل کرنے والے تیونس کو مطلوب شدت پسندوں کی جلد حوالگی پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں تیونس اور جرمنی میں دہشت گردوں کی حوالگی کے حوالے سے مختلف نوعیت کی رپورٹس شائع کی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جرمنی نے الزام عاید کیا ہے کہ تیونس جرمنی کو مطلوب شدت پسندوں کو برلن کے حوالے کرنے میں ٹال مٹول سےکام لے رہا ہے۔ اس ضمن میں تیونسی مشتبہ دہشت گرد انسی عماری بھی شامل ہے جس پر برلن میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ انیس عماری نے برلن میں اس وقت دہشت گردی کی کارروائیاں کی جب جرمن حکومت نے اسے پناہ گزین کے طور پر قبول کرنے سےانکار کردیا تھا۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ جب کوئی شخص افریقی ملکوں میں پناہ لیتا ہے تو یہ ملک اس اشتہاری کو ہمارے حوالے کرنے میں ٹال مٹول سےکام لیتے ہیں۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی کےدرمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ان کے ملک نے یورپ میں سرگرم 20 دہشت گردوں کو تیونس کےحوالے کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کےدرمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مکمل تربیت یافتہ اور چار سال سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم رہے ہیں۔ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار بھی قبضے میں لی گئی ہے۔