.

لیبیا کا طیارہ اغواء کرنے کے لیے 'جعلی اسلحہ' استعمال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالٹا کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز لیببا کے ایک مسافر بردار طیارے کو ڈرامائی انداز میں اغواء کرنے کی کارروائی میں جعلی اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔

مالٹا میں متعین لیبیا کےسفیر الحبیب الامین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ افریقی ائیرلائن کمپنی کے اغواء کیے گئے جہاز کے تمام مسافر مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ہائی جیکر کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کےبعد تمام مسافروں کو طرابلس کے ہوائی اڈے پرلے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز لیبیا میں اندرون ملک پرواز کرنے والے افریقی ایئرلائن کے مسافر بردار جہاز کوہائی جیکروں نے اغواء کرکے اس کا رخ مالٹا کی طرف موڑ دیا۔ طیارے کو مالٹا کے ایک ہوائی اڈے پر اتار دیا گیا۔ طیارے میں عملے کےسات اور 111 مسافروں سمیت کل 118 افراد سوار تھے۔

مالٹا میں متعین لیبی سفیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اغواء ہونے والے طیارے کو تکنیکی اور سیکیورٹی کےنقطہ نظر سے کلیئر قرار دینے کے بعد اسے جلد ہی طرابلس روانہ کردیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ اغواء کار اس وقت مالٹا کی پولیس کی تحویل میں ہیں۔ لیبی حکومت کی پہلی ترجیح تمام مسافروں کو محفوظ طریقے سے طرابلس پہنچانا ہے۔

قبل ازیں مالٹا کے حکام نے کہا تھا کہ لیبیا کے ہوائی جہاز کے دو ہائی جیکروں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، جس کے بعد تمام مسافروں کو طیارے سےباہر نکال دیا گیا ہے۔

تیونسی وزیرخارجہ نے جمعہ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طیارہ ہائی جیک کرنے والے دو نوجوانوں نے کہا ہے کہ وہ الفاتح الجدید نامی تنظیم کے رکن ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ہائی جیکروں نے طیارہ اغواء کرنے کے بعد مقتول کرنل معمر قذافی کے دور حکومت کے زیرحراست افراد بالخصوص سیف الاسلام قذافی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

لیبیا کی حکومت نے اغوا کاروں کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم ایک رکن پارلیمنٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ کے اپنے صفحے پر ہائی جیکروں کی شناخت موسیٰ شاہ اور احمد علی کے ناموں سے کی ہے اور ان کی عمر تیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔