.

انقرہ اور تہران کے درمیان بحران پیدا ہوسکتا ہے : ایرانی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایران کے سفیر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر انقرہ نے ترک میڈیا میں تہران کے خلاف ذرائع ابلاغ کی جنگ نہ روکی تو دونوں ملکوں کے درمیان بحران پیدا ہو جائے گا۔

محمد ابراہیم طاہریان نے یہ بات ایرانی نیوز ایجنسی " تسنیم" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

طاہریان نے باور کرایا کہ بعض ترک میڈیا ادارے ایران کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی غرض سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ " اگر فیصلہ کن معاملات کو حکومت کے سفارتی سیکٹر کی طرف سے میڈیا کو سونپا گیا تو حکام حالات پر سے اپنی گرفت کھو دیں گے"۔

ایرانی سفیر نے ترکی میں مقیم اپنے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے انتباہات کو سنجیدگی سے لیں۔ انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ اگلے اعلان تک ترکی میں ایران کے تمام قوںصل خانوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاسداران انقلاب کی فورس شامی عوام کے خلاف قتل اور جبری بے دخلی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور ایران نے فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کو شامی شہریوں کے قتل کے لیے بھیجا ہوا ہے۔ تاہم اس کے باوجود طاہریان نے بعض ترک میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعوی کیا کہ " یہ میڈیا اس حقیقت کو بیان نہیں کر رہا ہے کہ شامی حکومت اور عوام نے ہی ایران سے براہ راست سپورٹ کا مطالبہ کیا"۔

ترکی میں ایرانی سفیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ شامی عوام ان کے ملک سے سپورٹ کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں جب کہ ایرانی عسکری فورس اور اس کے زیر انتظام فرقہ وارانہ ملیشیائیں بشار الاسد کی حکومت کو سپورٹ کرتے ہوئے شامی عوام کو قتل اور ان کی سرزمین سے بے دخل کر رہی ہیں۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں " تمام غیر ملکی ملیشیاؤں کے شامی اراضی سے کوچ کر جانے" کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی قیادت میں پاسداران کی فورس شام میں عوام کے خلاف لڑنے کے لیے پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لیے عراقی ، لبنانی ، افغانی اور پاکستانی ملیشیائیں بھی موجود ہیں جن کو ایران ہی شام لے کر آیا۔ شامیوں کے قتل اور ان کو بے گھر کرنے کے لیے ایران نے مذکورہ ملیشیاؤں کو تمام تر سپورٹ اور تربیت فراہم کی۔ بشار کی فوج بھی اس وقت ایران کی لائی ہوئی دیگر ملیشیاؤں کی طرح محض تہران کی تابع ہو کر رہ گئی ہے۔