.

ایران اور عالمی طاقتوں میں جوہری معاہدے کی خفیہ دستاویزات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھے بڑی طاقتوں نے گذشتہ سال طے شدہ جوہری معاہدے سے متعلق بعض دستاویزات جاری کی ہیں۔ان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی حدود سے تجاوز نہیں کررہا ہے اور وہ مجموعی طور پر جوہری معاہدے کی پاسداری کررہا ہے۔

ان میں سے بعض دستاویزات 6 جنوری 2016کی ہیں۔ یعنی یہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد سے فوری بعد کی ہیں لیکن یہ جمعہ سے قبل ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی ویب سائٹ پر پوسٹ نہیں کی گئی تھیں۔

آئی اے ای اے ایران اور جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کی نگرانی کررہا ہے۔اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران کم درجے کی افزودہ یورینیم رکھ سکتا ہے لیکن اس کی مقدار کسی بھی وقت تین سو کلوگرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔یہ مقدار ایک جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے کافی نہیں ہے۔اگر اتنی مقدار میں یورینیم کو ہتھیار کی تیاری کے لیے درکار سطح تک افزودہ بھی کردیا جائے تو پھر بھی یہ جوہری بم کے لیے کافی نہیں۔

ایران نے جب جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے،اس وقت اس کے پاس قریباً ایک سو کلوگرام کم تر درجے کی افزودہ یورینیم تھی۔اس میں بعض مواد ایران نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔اس کو ان نئی دستاویزات میں ''ناقابل بحالی'' مواد قراردیا گیا ہے اور یہ تین سو کلوگرام کی تحدیدی مقدار میں شامل نہیں تھا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کی جانب سے ایک خط کے ذریعے ان دستاویزات کو شائع کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔اس کے بعد انھیں آئی اے ای اے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ انھیں ایک سال کے بعد اب کیوں جاری کیا گیا ہے؟

اس سے چندے قبل آئی اے ای اے نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی کم تر درجے کی افزودہ یورینیم کی پیداوار کو محدود کرے ورنہ اس کو طے شدہ حد سے تجاوز کا ذمے دار قرار دیا جائے گا۔

تاہم دو یورپی عہدے داروں کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ان دونوں امور کا آپس میں باہمی کوئی تعلق نہیں ہے اور اب تک ایران نے اپنی ذمے داریوں کو پورا کیا ہے۔انھوں نے امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں بڑی طاقتوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انھیں مشترکہ موقف اپنانا چاہیے۔