.

سینیگال اور نیوزی لینڈ کے خلاف اسرائیلی سفارتی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے سینیگال اور نیوزی لینڈ کے خلاف سفارتی اقدامات کے سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔ دونوں ملکوں نے سلامتی کونسل میں فلسطینی اراضی پر بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے بعد اسرائیل کی جانب سے جوابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے سینیگال کے لیے تمام امدادی پروگراموں کو ختم کر دیا ہے اور جنوری میں سینیگال کے وزیر خارجہ کا تل ابیب کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا۔

اس کے علاوہ نیتنیاہو نے سینیگال اور نیوزی لینڈ کے غیر مقیم سفراء کے اسرائیل کے دوروں کو منسوخ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ ان دونوں ملکوں میں اسرائیلی سفیروں کو بھی مشاورت کے واسطے طلب کیا ہے۔

سلامتی کونسل نے جمعے کے روز ایک قرار داد منظور کی جس میں بیت المقدس سمیت فلسطینی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روک دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل میں 14 رکن ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ واشنگٹن نے رائے شماری میں حصہ لینے سے منع کر دیا جو کہ کئی دہائیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے کی درخواست پر مصر اس قرارداد سے دست بردار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ ، ملائیشیا ، وینزویلا اور سینیگال نے قرار داد پر رائے شماری کی درخواست کی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو نے قرارداد کو "شرم ناک" قرار دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک اس قرارداد کی پاسداری ہر گز نہیں کرے گا۔

ادھر کانگریس میں امریکی ارکان پارلیمنٹ نے بھی رائے شماری میں امریکا کی عدم شرکت پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر اور سینیٹر جان مک کین نے اس کو "امن کے لیے کاری ضرب اور اسرائیل کے خلاف ساز باز قرار دیا"۔

جہاں تک امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے مزید دو قدم آگے جاتے ہوئے اپنی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ " یقینا 20 جنوری کے بعد امریکا میں امور تبدیل ہو جائیں گے"۔ یہ وہ ہی تاریخ ہے جس روز ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں اپنا منصب سنبھالیں گے۔

فلسطینی ایوان صدارت نے اپنے طور پر کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار داد اسرائیلی پالیسی کے مُنہ پر زور دار طمانچہ اور مسئلہ فلسطین کے لیے فتح کا دن ہے۔