.

روس کا فوجی طیارہ سمندر میں گر کر تباہ ،92 افراد ہلاک

صدر پوتین نے حادثے کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کا شام جانے والا ایک فوجی طیارہ بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام بانوے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان آئیگور کوناشنکوف نے ملکی خبررساں اداروں کو بتایا ہے کہ ٹی یو 154 طیارے نے جنوبی شہر ایڈلر سے ایندھن بھروانے کے بعد اتوار کو علی الصباح 5:25 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اس کے صرف دو منٹ کے بعد ہی ریڈار سے غائب ہوگیا تھا۔

حادثے کے فوری بعد سوچی کے نزدیک ساحلی علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی تھیں۔روس کی انٹرفیکس خبررساں ایجنسی کی اطلاع کے مطابق ایک ریسکیو ٹیم کو بحیرہ اسود میں حادثے کی جگہ کا پتا چل گیا ہے اور وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ چار لاشیں سمندر سے نکال لی گئی ہیں۔طیارے کے بعض حصے سوچی کے ساحل سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سمندر میں پچاس سے ستر میٹر کی گہرائی میں ملے ہیں۔

طیارے میں چوراسی مسافر اور عملہ کے آٹھ ارکان سوار تھے۔ان میں روس کے بین الاقوامی سطح پر شہرت کے حامل فوج کے سرکاری میوزیکل گروپ (ریڈ آرمی) کے چونسٹھ ارکان شامل تھے۔اس کے کنڈکٹر ولیری خلیلوف بھی ان کے ہمراہ تھے اور وہ شام میں روسی فوجیوں کے ساتھ نئے سال کا جشن منانے کے لیے جارہے تھے۔

ان کے ساتھ نو روسی صحافی بھی لقمہ اجل بن گئے ہیں۔روس کے تین سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں پروی کنال ،این ٹی وی اور زفزدہ نے بتایا ہے کہ ان کے عملہ کے تین، تین ارکان فوجی طائفے کے ساتھ شام کے صوبے اللاذقیہ میں واقع حمیمیم کی فوجی اڈے کی جانب جارہے تھے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے وزیر اعظم دمتری مید ویدیف کو حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک سرکاری کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔روس کی خبررساں ایجنسی ریا نے ایک غیر شناختہ سکیورٹی ذریعے کے حوالے سےبتایا ہے کہ طیارہ فنی خرابی یا پائیلٹ کی غلطی کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہوا ہے۔اس نے سمندر میں گرنے سے قبل مدد کے لیے کوئی اشارہ بھی نہیں دیا تھا۔

روسی ایوان صدر کریملن کے ترجمان دمتری بیسکوف نے قبل ازیں خبررساں ایجنسیوں کو بتایا کہ صدر پوتین کو طیارہ حادثے سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

روس ستمبر 2015 سے شامی عوام کی انقلابی تحریک کے خلاف صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔اس کے لڑاکا طیارے شامی باغیوں کو بمباری میں نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کے فوجی برسرزمین شامی فوج کی باغیوں کے خلاف لڑائی میں معاونت اور رہ نمائی کررہے ہیں۔