.

تہران: سعودی سفارت خانے پر حملے کے پانچ مجرموں کی اپیل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک عدالت نے دارالحکومت تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حملے کے سزایافتہ پانچ مجرموں کی اپیل منظور کر لی ہے۔

ان مدعا علیہان میں سے بعض کی پیروی کرنے والے ایک وکیل مصطفیٰ شبانہ نے تہران میں نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ماتحت عدالت نے انیس مشتبہ ملزموں میں سے چھے کو قصور وار قرار دے کر چھے ،چھے ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ بعض کو معطل سزا کا حکم دیا تھا اور باقی کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا تھا۔

انھوں نے بتایا ہے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے بعض مجرموں کی اپیل منظور کر لی ہے۔سعودی عرب کے سفارتی مشنوں پر حملوں کے الزام میں اکیس مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔تاہم بعد میں ان میں سے بیشتر کو ڈھونگ عدالتی کارروائی کے بعد بری کیا جا چکا ہے اور جو چند ایک سزایافتہ ہیں ،ان کی اپیل بھی منظور کر لی گئی ہے۔

یاد رہے کہ مشتعل ایرانی مظاہرین نے جنوری میں سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم نمر ابو نمر کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کے جرم میں سرقلم کیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور اس دوران سعودی سفارت خانے پر حملہ کردیا تھا اور اس کی عمارت کے بیرونی حصے کو نذرآتش کردیا تھا۔ ایرانیوں نے مشہد میں سعودی قونصل خانے پر بھی دھاوا بولا تھا۔ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

ایرانی عدلیہ نے اپریل میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان دونوں حملوں کے الزام میں ایک سو سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں سے اڑتالیس پر فرد جُرم عاید کی گئی تھی اور بعد میں ان تمام مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد مشتعل مظاہرین امریکا سمیت متعدد غیرملکی سفارتی مشنوں پر حملے کرچکے ہیں اور اس وجہ سے ماضی میں ایران کے دوسرے ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے تھے۔

ایرانی مظاہرین نے 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کے عملہ کو یرغمال بنا لیا تھا۔1987ء میں کویت اور 1988ء میں سعودی عرب کے سفارت خانوں پر حملے کیے گئے تھے۔ایرانی مظاہرین نے 2006ء میں ڈنمارک اور 2011ء میں برطانیہ کے سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔