.

سعودی مسلح افواج نے حوثی دراندازوں کو کیسے ناکام بنایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مسلح افواج نے یمن کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں حوثی شیعہ باغیوں کی دراندازی کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی ہے اور انھیں سعودی علاقے میں بارودی سرنگیں نصب کرنے سے پہلے ہی جا لیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے یمن کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی فوجیوں کی جنگی کارروائیوں کو بھیس بدل کر بچشم خود دیکھا ہے اور اس کی ویڈیو بنائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ سعودی فوجی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حوثی باغیوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کا سرحدی علاقے میں اُجاڑ بیابان علاقوں کے علاوہ درختوں اور جھاڑیوں میں گھری ہوئی بے آباد عمارتوں سے گزر ہوا ہے۔ان عمارتوں میں کوئی بھی چھپ کر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

اس پُر خطر سرحدی علاقے میں العربیہ کے فوٹو گرافر نے رات کو کام کرنے والے کیمرے کی مدد سے جنگی کارروائیوں کی تصاویر بنائی ہیں اور وہ وہاں فلمائی گئی ویڈیو سے بھی زیادہ واضح ہیں۔اس میں سعودی عرب کی خصوصی فورسز کے دستے اپنے علاقے میں درانداز حوثی ملیشیا کی فائرنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

دن کے وقت سعودی عرب کے چھاتا بردار اور خصوصی دستے دشمن کے خلاف کارروائی کے لیے بڑی سرعت سے آگے بڑھتے ہیں لیکن رات کو انھیں پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیں مگر اس کے باوجود بڑے محتاط انداز میں پُرخطر جنگی کارروائیاں کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے ان خصوصی دستوں نے حوثی ملیشیا کے خلاف سرحدی علاقے میں جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ گذشتہ سال مارچ سے حوثیوں کی دراندازی کی بیسیوں کارروائیوں کو ناکام بنا چکے ہیں۔