.

آستانہ اجلاس میں کون شریک ہوگا؟ تین بڑوں میں اختلاف!

روس، ایران اور ترکی اپنی مرضی کے وفود کی شرکت کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری تنازعے پر قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کےشرکاء کے حوالے سے روس ،ایران اور ترکی میں اختلافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد شام سے متعلق یہ اجلاس بھی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

دوسری جانب قزاقستان کے صدر نور سلطان نذر اے بائیوف نے کہا کہ ان کی حکومت شام سے متعلق اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ اس اجلاس میں شامی حکومت کے مندوبین کے ساتھ ساتھ شامی اپوزیشن کے متعدد دھڑوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے مگر صدر اسد کے حامی روس اور ایران نے ترکی کے مجوزہ اپوزیشن کے وفود پر اعتراضات کیے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگاروں کے مطابق روس، ایران اور ترکی کےدرمیان اختلافات کے بعد آستانہ اجلاس کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ تینوں ملک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ آیا اجلاس میں شامی اپوزیشن کے کون کون سے وفود شرکت کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا تھا کہ انھوں نے ترکی، ایران کے ساتھ مل کر شام کے بحران کے حل کے لیے آستانہ میں اہم اجلاس منعقد کریں گے۔ ایران اور ترکی نے بھی روسی صدر کی تجویز سے اتفاق کیا تھا۔تاہم بعد میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ تینوں ممالک شامی اپوزیشن کے وفود کے حوالے سےاعتراضات سامنے آئے تھے۔

اجلاس میں دوستان شام ممالک کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔تاہم شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

آستانہ اجلاس کے اہدف میں داعش اور النصرہ فرنٹ کے سوا اپوزیشن کی باقی تنظیموں کو شرکت کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ یہ طے کرنا ہے کہ شام کے مسئلے کا حل صرف بات چیت کے ذریعے نکالا جائے گا۔ فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں۔ اس سے قبل جنیوا میں ہونے والے اجلاسوں میں بھی یہی مطالبہ کیا جا چکا ہے۔ روس، ترکی اور ایران اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد کرانے کے لیے آستانہ اجلاس کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

ترکی سے مذاکرات کے دوران روس نے شامی اپوزیشن کے گروپوں کو تسلیم کیا ہے جب کہ ماضی میں روس شامی اپوزیشن گروپوں سے دور رہا ہے۔ شامی اپوزیشن کی جانب سے بات چیت ترکی کی ذمہ داری ہے۔