.

شامی حزبِ اختلاف روس میں جاری مذاکرات سے لاعلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ شامی حکومت قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ممکنہ امن مذاکرات سے قبل حزب اختلاف کے ساتھ بات چیت کررہی ہے جبکہ شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ نے ان مذاکرات سے لاعلمی ظاہر کردی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے یہ نہیں بتایا ہے کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بات چیت کہاں ہورہی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ ان مذاکرات میں کون سا گروپ حصہ لے رہا ہے۔صدر بشارالاسد کے مخالف شام کے مسلح گروپوں اور سیاسی دھڑوں کی نمائندہ اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کو ان مذاکرات کا کوئی علم نہیں ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سرگئی لاروف نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور انھوں نے شام میں جنگ بندی اور آستانہ مذاکرات کے لیے کوششیں آگے بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔

روس ،ایران اور ترکی نے گذشتہ ہفتے ماسکو میں مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ وہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان امن معاہدہ طے کرانے کے لیے تیار ہیں۔ان تینوں ممالک نے ایک اعلامیہ منظور کیا تھا۔اس میں مجوزہ امن سمجھوتے سے متعلق رہ نما اصول وضع کیے گئے ہیں۔

صدر ولادی میر پوتین نے کہا تھا کہ مذکورہ تینوں ممالک اور شامی صدر بشار الاسد نے آستانہ میں نئے امن مذاکرات سے اتفاق کیا ہے۔

درایں اثناء روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریا نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اور ترکی کی مسلح افواج کے نمائندے شامی حزب اختلاف کے ساتھ انقرہ میں شام بھر میں جنگ بندی کے لیے مشاورت کررہے ہیں۔