.

کیا نیا سیاسی محاذ صدر روحانی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقربین دس عہدہ داروں نے عوامی محاذ برائے اسلامی انقلاب کے نام سے ایک نئی تنظیم تشکیل دی ہے۔اس نے صدر حسن روحانی کو ان کی اقتصادی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس تنظیم کے سربراہ محمد حسن رحیمیان ہیں۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال سے پریشان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''ہمارا انتظامی نظام ہمیشہ معاشرے کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔بعض عہدہ دار عوام سے ایک فاصلے پر رہتے ہیں۔وہ پر تعیش زندگی گزارتے ہیں اور دولت اکٹھی کرنے میں لگے ہوئے ہیں''۔

وہ صدر حسن روحانی کی کابینہ کے وزراء کی بھاری تن خواہوں اور مراعات کا حوالہ دے رہے تھے جن کی وجہ سے عام لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور وہ ان وزراء کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں صدارتی انتخابات قریب آنے پر سخت گیر عہدہ دار اور سیاسی قائدین عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ صدر حسن روحانی بے روزگاری اور غُربت سمیت ملک کو درپیش داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔

رحیمیانی کے بیانات اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ انتہا پسند تنظیمیں کسی سخت گیر امیدوار کو آیندہ صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کے مقابلے میں نامزد کرنا چاہتی ہیں کیونکہ ان کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ منتخب ہونے کے اہل نہیں ہیں۔