.

ایران کا ہمدان فوجی اڈہ دوبارہ روس کے حوالے کرنے پر غور

ضرورت پڑنے پر عسکری مشیر حلب بھیجیں گے: ایرانی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ہمدان کا فوجی اڈہ دوبارہ روسی فوج کے استعمال میں دینے پرغور شروع کیا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان کا کہنا ہے کہ تہران ھمدان کا فضائی اڈہ ایک بار پھر روس کو فوجی مقاصد کے لیے دینے پر غور کررہا ہے۔ اگر ماسکو اس اڈے کو استعمال کرنے کی درخواست کرے گا تو یہ اڈہ اسے استعمال کے لیے دیا جاسکتا ہے۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کے روز ایرانی وزیردفاع حسین دھقان نے ایک بیان میں کہا کہ شام میں فوجی کارروائیوں کے لیے تہران اور ماسکو کے درمیان ’کوآرڈینیشن‘ موجود ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ اگست میں روسی فوج نے شام میں مختلف علاقوں میں بمباری کے لیے ایران کا ہمدان میں قائم فوجی اڈہ استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم بعد ازاں روس اور ایران کے درمیان اختلافات سامنے آنے پر ہمدان کا فوجی اڈہ روسی فوج سے لے لیا گیا تھا۔

ایک دوسرے سیاق میں حسین دھقان نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران اپنے عسکری مشیر شام کے جنگ زدہ شہر حلب بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ روس اور ایران کو صدر بشارالاسد کے اہم ترین اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور روس بشار الاسد کی مدد کو نہ پہنچتے تو وہ ملک میں جاری تحریک انقلاب کو کچلنے میں بری طرح ناکام رہتے۔ حال ہی میں حلب شہر پر شامی فوج کے دوبارہ قبضے میں بھی روس اور ایرانی پاسداران انقلاب کا اہم ترین کردار سمجھا جاتا ہے۔