.

مکہ کرین حادثہ : سیفٹی ماہرین کے ہوشربا انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں ستمبر 2015ء میں مسجد الحرام کے احاطے میں کرین گرنے کے حادثے میں ماخوذ سیفٹی ماہرین نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس تو کرین کو چلانے کا لائسنس ہی نہیں تھا۔

مکہ کی ایک فوجداری عدالت نے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹس کی روشنی میں ان سنگین بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا ہے۔ان سیفٹی ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ تحفظ اور کرین کو چلانے کے لیے اختیار کردہ اقدامات ازکار رفتہ تھے۔

متعلقہ حکام نے ان کے علاوہ اور بھی بہت سی بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا ہے۔ذرائع نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ حادثے کی جگہ پر کام کرنے والا ایک انجنیئر اور دوسرے لوگ کرین چلانے کے رہ نما کتابچے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ان میں سے بعض نے تو اس کو دیکھا تک نہیں تھا۔

محکمہ انصاف جمعرات کو مدعاعلیہان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دے گا۔اس کے بعد فوجداری عدالت سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس مقدمے کی سماعت نہ کرے اور اس کے بجائے اس کو سعودی شہری دفاع کونسل کے پاس بھیج دیا جائے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کا ادارہ برائے تحقیقات اور سرکاری استغاثہ (بیورو آف انوسٹی گیشن اینڈ پبلک پراسیکیوشن) گذشتہ سال ستمبر میں مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں تعمیراتی کام کے دوران ایک بڑی کرین کے گرنے کے واقعے میں کسی قسم کے مجرمانہ محرک کے امکان کو مسترد کر چکا ہے۔

اس محکمے کی جانب سے جدہ میں قائم ایک عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں اس جواز کو بھی مسترد کردیا گیا تھا کہ 1300 ٹن وزنی کرین کا حادثہ شدید آندھی اور طوفان کی وجہ سے پیش آیا تھا۔اس افسوس ناک سانحے میں ایک سو گیارہ عازمین حج وعمرہ شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

البتہ تحقیقاتی بیورو کا کہنا تھا کہ کرین کو غلط انداز میں نصب کیا گیا تھا اور وہ اسی وجہ سے 80 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی تیز آندھی میں اپنا بوجھ نہ سہار سکی اور مسجد الحرام کے ایک حصے میں عبادت میں مصروف لوگوں پر گر پڑی تھی۔

بیورو نے بھی کہا تھا کہ ''کرین کو بنانے والی کمپنی کی جانب سے اس کو چلانے کے لیے وضع کردہ ہدایاتی کتابچے میں درج ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا گیا تھا اور ان کے برعکس کرین کو نصب کیا گیا تھا''۔