.

پناہ گزینوں کی خاطر سعودی ’مسیحا‘ کی دریائے ’ٹیمز‘ میں پیراکی!

ڈاکٹر مریم عالمی برادری کی توجہ پناہ گزینوں کی طرف مبذول کرانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ڈینٹل سرجن مریم صالح بن لادن کا شمار اندرون اور بیرون ملک جذبہ انسانی سے سرشار ان مسیحاؤں میں ہوتا ہے جو قید وزمان ومکان سے ماورا ہو کر دکھی انسانیت کے لیے اپنا سب کچھ وقف کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر مریم صالح بن لادن ایک عرصے سے شامی پناہ گزینوں کے لیے مفت خدمات فراہم کرنے میں سرگرم ہیں۔

ویسے تو انہوں نے زیادہ وقت اردن کے ہرالارزوق میں قائم پناہ گزین کیمپ کے 55 ہزار مکینوں کو طبی امداد پہنچانے میں گزارا۔ ان کے ساتھ اس عظیم مشن میں اردن کےفلاحی ادارے ’ای ایم سی‘ بھی پیش پیش رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاکٹر مریم بن لادن پیراکی کی بھی حد درجہ دلدادہ ہیں مگر انہوں نے پیراکی کے شوق کو بھی شامی پناہ گزینوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ جوڑ کر پیراکی کو شامی متاثرین کی مدد کا ایک نیا ذریعہ بنایا ہے۔ انہوں نے برطانیہ اور ترکی سمیت کئی مقامات پر دریائوں میں پیراکی کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ شامی پناہ گزینوں کی طرف مبذول کرانے کا بیڑا اٹھایا اور وہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہی ہیں۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ماہر خاتون دندان ساز ڈاکٹر مریم صالح بن لادن نے 10 ایام میں برطانیہ کے مشہور دریائے ’ٹیمز‘ میں 101 میل مسافت میں پیراکی کی۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کے دریائے ’مناش‘ میں 21 میل[قریبا 34 کلو میٹر] طویل پیراکی کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے عالمی برادری کی توجہ شامی پناہ گزینوں اور انہیں درپیش مشکلات کی طرف مبذول کرانے کے لیے ترکی میں ھیلسبونٹ پیراکی کا چیلنج بھی قبول کرتے ہوئے براعظم ایشیا اور یورپ کے درمیان پہلی خاتون پیراک کی حیثیت سے پیراکی کی۔ ڈاکٹر مریم کی ان تمام مساعی کا مقصد بین الاقوامی برادری کو شام کے جنگ زدہ شہریوں کے مسائل کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے لیے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنا تھا۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیدا ہونے اور وہیں پرورش پانے والی ڈاکٹر مریم صالح بن لادن نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سعودی عرب کے سخاوت کی عظیم روایات سے بھرپور اور سماجی تکافل کے ماحول میں پرورش پائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں انسانیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اسی جذبہ انسانی نے اسے شامی پناہ گزینوں کو مفت طبی امداد فراہم کرنے پر اکسایا اور انہوں نے اپنی ذات پر دوسروں کی خوشیوں کو ترجیح دی، دکھی لوگوں کا سہارا بننے اور دوسروں کے دکھ بانٹنے کو اپنا شعار بنایا اور اس مقصد کے لیے دوسرے ملکوں کے سفر کیے۔ عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے دریاؤں میں سو سو کلو میٹر تک پیراکی کی۔

ڈاکٹر مریم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے عزم سے یہ ثابت کیا ہے کہ مملکت سعودی عرب کی خواتین بھی جذبہ انسانی اور انسانیت کی خدمت کے باب میں کسی دوسرے ملک کی خواتین سے پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دین حنینف کی تعلیمات پرعمل پیرا رہتے ہوئے نہ صرف طب کی دنیا میں کام کیا بلکہ اسپورٹس کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی خواتین بھی اپنے عزم اور ارادے پر ڈٹ جائیں تو اپنے خواب شرمندہ تعبیر کرسکتی ہیں۔

برطانیہ کے دریائے ‘ٹیمز‘ میں پیراکی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں دریائے ٹیمز میں پیراکی کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ منصوبہ تیار کرنے کے بعد پیراکی شروع کردی مگر چوتھے روز اپنا فیصلہ منسوخ کردیا۔ میری ماں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور تاکید کی مجھے اپنا ہدف ضرور مکمل کرنا ہے۔ والدہ کی ترغیب پرمیں نے پیراکی کا سفر جاری رکھا اور اپنا ہدف مکمل کرلیا۔

اردن میں شامی پناہ گزینوں کے لیے مفت طبی مرکز کےقیام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مریم نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کی خدمت کے ضمن میں یہ ایک اہم قدم ہے اور وہ اپنے اس مرکز میں تمام مریضوں کو مکمل طور پر مفتی طبی امداد مہیا کررہی ہی ہیں۔