.

حلب میں بشار الاسد پر جان وارنے والے ایرانی جنرل کا یادگاری ٹکٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے اکتوبر 2015ء میں شام میں صدر بشار الاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے جان قربان کرنے والے جنرل حسین ہمدانی کی خدمات کے اعتراف میں ان کی تصویر پر مبنی ایک نیا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں‘مہر‘، ’تسنیم‘ اور ’فارس‘ کے علاوہ ایرانی ٹیلی ویژن چینل ’العالم‘ کی ویب سائٹ پر پوسٹ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس ڈاک ٹکٹ کے اجراء کے سلسلے میں تہران میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر دفاع حسین دھقان اور دیگر اہم حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی تھی۔

خیال رہے کہ جنرل حسین ہمدان شام میں 2015ء میں شام میں باغیوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم ان کی ہلاکت کے واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ جنرل ہمدانی نے شام میں ایران کی ’باسیج‘ فورسز کی طرز پر ملیشیا تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ملیشیا دفاع وطن کی آڑ میں نہتے شہریوں کا وحشیانہ قتل عام کرتی رہی ہے۔ بشارالاسد کے مظالم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے میں بھی اس ملیشیا کا کلیدی کردار رہا ہے۔

ایک رپورٹ کےمطابق جنرل ہمدانی حلب میں ایک ڈرون طیارے کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق جنرل ہمدانی داعش کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔