.

گھر پرنظربند ایرانی اپوزیشن رہ نما نے اپنی جماعت چھوڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اپوزیشن کے سرکردہ اصلاح پسند رہ نما اور چھ سال سے اپنےگھر پر نظر بند مہدی کروبی نے اپنی جماعت ’اعتماد ملی‘ سے علاحدگی کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ مہدی کروبی اور حسین موسوی ایران کے دو اہم ترین اصلاح پسند اپوزیشن لیڈر سمجھے جاتے ہیں اور انہیں 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد تہران میں گھروں میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے سنہ 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کراحتجاج شروع کیا تھا جس کے بعد انہیں قید کردیا گیا تھا۔

ایرانی حکام نے انہیں ملک میں فتنہ وفساد برپا کرنے کے الزام میں پہلے جیلوں میں ڈالا بعد ازاں انہیں ان کی رہائش گاہوں میں بند کردیا تھا۔

اصلاح پسندوں کے مقرب فارسی اخبار ’شرق‘ کی رپورٹ کےمطابق 79 سالہ مہدی کروبی نے اپنی جماعت کے عہدیداروں کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں اپنی خرابی صحت کی تفصیلات کے ساتھ کہا گیا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ مزید کتنا عرصہ اسی حالت میں رہیں گے۔ اس لیے جماعت کے ذمہ داران سے درخواست ہے کہ وہ میرا استعفیٰ قبول کرلیں۔

ادھر ایران میں شدت پسند حلقوں کی جانب سے مہدی کروبی اور حسین موسوی کے خلاف مقدمات کے قیام کے بھی مطالبات کیے جاتے رہے ہیں مگر ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ایرانی شدت پسندوں کا خیال ہے کہ اصلاح پسند لیڈروں کی گھروں پرنظربندی بھی ’نرم روی‘ پر مبنی ہے۔ شدت پسند رکن پارلیمنٹ مجبتیٰ ذوالنور کا کہنا ہے کہ اگر اصلاح پسندوں کے خلاف ملک میں فتنہ وفساد برپا کرنے کے الزام میں مقدمات چلائے جاتے ہیں تو انہیں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

ایرانی شدت پسندوں کے مقرب جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق لاریجانی کا کہنا کہ فتنہ وفساد برپا کرنے کے الزامات کا معاملہ اپنی جگہ موجود ہے کسی بھی وقت اس پرغور کیا جاسکتا ہے۔

مہدی کروبی کا کہنا ہے کہ ان کے استعفے کا فیصلہ ان کی جماعت ’اعتماد ملی‘ کو متحد رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔