.

'' شام میں عبوری دور میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا''

ترکی اور روس نے شام میں جنگ بندی سے متعلق سمجھوتا تیار کر لیا: ترک وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے کہا ہے کہ شام میں عبوری عرصے کے دوران بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ ترکی اور روس نے شام میں جنگ بندی سے متعلق سمجھوتا تیار کر لیا ہے اور ان کا ملک شامی حزب اختلاف پر صدر بشارالاسد کو برسر اقتدار رکھنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا ۔

شاوس اوغلو نے بدھ کے روز انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں جاری بحران کے حل سے متعلق دو مسودے تیار ہیں۔ایک سیاسی حل اور ایک جنگ بندی سے متعلق ہے۔ان دونوں کا کسی بھی وقت نفاذ کیا جاسکتا ہے''۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ شامی حزب اختلاف کبھی بشارالاسد کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بشارالاسد کے ہوتے ہوئے سیاسی انتقال اقتدار کا عمل ممکن نہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا بشارالاسد کے گرد متحد ہونا ممکن نہیں''۔

شامی صدر کے مستقبل کے حوالے سے ترکی اور روس کے موقف میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔گذشتہ ہفتے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا تھا کہ روس ،ایران اور ترکی نے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے اتفاق کیا ہے۔یہی ان کی ترجیح ہے اور بشار حکومت کو ہٹانا ان کی ترجیح نہیں ہے۔

قبل ازیں آج ہی ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے اطلاع دی ہے کہ ماسکو اور انقرہ نے ایک عام جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ کریملن نے فوری طور پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

شامی باغیوں کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ انقرہ اور باغی قوتوں کے درمیان اسی ہفتے مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا جنگ بندی کا کوئی حتمی سمجھوتا طے پا گیا ہے۔