.

تشدد آمیز 2016ء اختتام پذیر، 2017ء کا رنگا رنگ آتش بازی سے آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تشدد اور تنازعات سے آلودہ 2016ء اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ رخصت ہورہا ہے اور براعظم آسٹریلیا اور ایشیا کے بعض ممالک میں نئے سال 2016ء کا رنگا رنگ تقاریب اور آتش بازی کے ساتھ آغاز ہوگیا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی سب سے پہلے 2017ء کا استقبال کیا گیا ہے اور روایتی انداز میں رنگا رنگ آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا جارہا ہے۔اس موقع پر لاکھوں افراد ساحل سمندر ،اوپیرا ہاؤس اور دوسرے مقامات پر نئے سال کے استقبال کے لیے ہونے والی آتش بازی دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

پڑوسی ملک نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کے مشہور سکائی ٹاور پر لگے گھڑیال پر جونہی بارہ بجے تو وہاں سے آتش بازی شروع کردی گئی اور نئے سال کا خیرمقدم کیا گیا۔

دبئی میں حسب سابق اس مرتبہ بھی نئے سال کی آمد پر ریکارڈ آتش بازی کی تیاریاں کی گئی ہیں اور پٹاخوں اور کریکروں کے دھماکوں سے نئے سال کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔

دبئی میں 2016ء کے اختتام اور 2017ء کے آغاز کے موقع پر دنیا کی سب سے طویل عمارت برج خلیفہ اور سب سے بڑے مال ۔۔۔دبئی مال۔۔۔۔۔۔ سمیت 160 مخصوص مقامات پر رنگا رنگ آتش بازی کی جارہی ہے اور ان مقامات کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔

دبئی کے ساڑھے چھے لاکھ سے زیادہ مکینوں اور سیاحوں کی برج خلیفہ اور اس کے نواحی کاروباری علاقوں میں نئے سال پر آتش بازی کے رنگا رنگ مظاہرے کو دیکھنے کے لیے آمد متوقع ہے۔ان علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جارہے ہیں اور سکیورٹی کے چار ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں بھی نئے سال کی آمد پر رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔ برطانوی بینڈ 'کولڈ پلے' یاس آئی لینڈ میں اپنے کا مظاہرہ کرے گا۔الماریہ آئی لینڈ میں اماراتی گلوکار حسین الجاسمی اور عرب گلوکار محمد آصف اپنے فن کا جادو جگائیں گے۔شارجہ ،القصبہ اور المجاز میں بھی نئے سال کے موقع پر رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت دبئی کو دنیا کے سب سے طویل ٹاور ،سب سے بڑے انسانی ساختہ جزیرے اور مصروف ترین عالمی ہوائی اڈوں میں سے ایک کا مالک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے دبئی کی بھی سڈنی کی طرح نئے سال کے آغاز کے موقع پر آتش بازی اور دیگر تقریبات کے حوالے سے ایک پہچان بن گئی ہے،خاص طور پر 2010ء میں 828 میٹر (2716 فٹ) طویل برج خلیفہ ٹاور کے افتتاح کے بعد سے یہاں رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور دنیا بھر سے شوبز اور دوسرے شعبوں کی سرکردہ شخصیات ان میں شرکت کرتی ہیں۔

مختلف ممالک میں نئے سال کی تقریبات

جاپان میں نئے سال کا خیرمقدم مختلف انداز میں کیا جاتا ہے اور پہلے دن عام طور پر دکانیں بند ہوتی ہیں۔اس لیے ہفتے کو ملک بھر میں شہریوں نے نئے سال کے سالانہ کھانے کے لیے خریداری کی ہے۔یہ جاپانی زبان میں ''اوسیشی ریوری'' کہلاتا ہے۔

جاپان میں مندروں میں بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق برائی کی تعداد کے لحاظ سے ایک سو آٹھ مرتبہ گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں جاپانی مندروں کا رُخ کرتے ہیں اور صحت اور خوش حالی کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

ادھر مغربی دنیا کے سب سے بڑے شہر لندن میں رات بارہ بجے ہزاروں لوگوں کی دریائے ٹیمز کے کنارے آمد متوقع ہے اور وہ آتش بازی کے مظاہرے کو ملاحظہ کریں گے۔برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ساحل سمندر پر نئے سال کی تقریبات میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔چند گھنٹے کے وقفے سے نیویارک اور امریکا کے دوسرے شہروں میں بھی رنگا رنگ تقاریب اور آتش بازی کے مظاہروں سے نئے سال کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں 2016ء میں بھی انسانی خون بہتا رہا ہے اور ہفتے کو سال کے آخری روز عراق میں خودکش بم دھماکے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گزرے سال کے دوران عراق میں داعش مخالف جنگ ،شام میں سرکاری فوج اور باغی گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپیں اور یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج اور حوثی ملیشیا کے درمیان خونریز لڑائی جاری رہی ہے۔

ان تینوں ملکوں میں ان جنگوں میں مزید ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔البتہ سال کے خاتمے پر ایک اچھی خبر شام میں جنگ بندی کی صورت میں سامنے آئی ہے اور وہاں ترکی اور روس کی ثالثی میں اسد حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پا گیا ہے اور اس پر جمعرات سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کے اسکائی ٹاور پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے رنگا رنگ آتش بازی کا منظر ۔
نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کے اسکائی ٹاور پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے رنگا رنگ آتش بازی کا منظر ۔