.

پناہ گزینوں کے درمیان دہشت گردوں کی موجودگی افسوس ناک ہے : مرکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے اپنے ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ وہ "نفرت کے جذبے سے بھرپور قاتلوں" کا مقابلہ کرنے کے لیے پورے عزم کے ساتھ ڈٹ جائیں اور برلن میں پیش آنے والے واقعے کے بعد بھی جمہوری اقدار سے دست بردار نہ ہوں۔ یہ بات انہوں نے نئے سال کی آمد پر اپنے خصوصی خطاب میں کہی جو جرمن ٹی وی پر ہفتے کی شام نشر کیا جائے گا۔ جرمن چانسلر نے اس بات کا اقرار کیا کہ 2016 کا سال ایک "مشکل امتحان" ثابت ہوا جس کے دوران داعش تنظیم کی جانب سے ملک میں مختلف حملوں کی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔

مرکل نے مزید کہا کہ "پناہ گزینوں کے درمیان دہشت گردوں کی موجودگی ایک تکلیف دہ اور انتہائی نا خوش گوار امر ہے۔ یہ لوگ اپنی افعال سے جرمنی کے امداد کے جذبے اور ان لوگوں کے ساتھ سنگین مذاق کر رہے ہیں جن کو ہماری جانب سے تحفظ اور مدد کی ضرورت ہے"۔

برلن حملے کے بعد سکیورٹی اصلاحات

اینگلا مرکل نے اپنے خطاب میں اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ حکومت سکیورٹی اصلاحات کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔

برلن حملے نے سکیورٹی حکام کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا جنہوں نے تیونس سے تعلق رکھنے والے انیس العامری کو پکڑنے میں دل چسپی نہیں دکھائی جب کہ اس بات کے کئی شواہد موجود تھے کہ مذکورہ شدت پسند کسی حملے کی تیاری کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

مرکل کے مطابق حکومت 2017 میں ان قانون ساز یا پالیسی ترامیم کا ارادہ رکھتی ہے جو سکیورٹی اصلاحات کے نفاذ کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔

"بموں سے تباہ حال حلب کی تصاویر "

جرمن چانسلر نے زور دے کر کہا کہ "بموں سے تباہ حال حلب کی تصاویر ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ رواں سال کے دوران ہماری ریاست نے تحفظ کے ضرورت مندوں کو جو مدد پیش کی وہ کتنی اہم اور منصفانہ ہے"۔

اینگلا مرکل نے جو ستمبر 2017 میں مقررہ انتخابات میں چوتھی مدت کے لیے کامیابی کے حوالے سے پر امید ہیں ، انہوں نے دائیں بازو کی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کی مقبولیت میں پناہ گزینوں کی ہجرت اور حالیہ حملوں کے پس منظر میں اضافہ ہوا ہے۔