.

شام میں تین ماہ کے وقفے کے بعد نئے ایرانی سفیر کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے تین ماہ کے وقفے کے بعد جواد ترک عبادی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنا نیا سفیر نامزد کیا ہے۔

ان کے پیش رو ایرانی سفیر کی مدت تین ماہ قبل پوری ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد ایرانی حکومت اور فوج کے درمیان جنگ زدہ ملک میں نئے سفیر کے تقرر پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ایران کی وزارت خارجہ اور سپاہ پاسداران انقلاب کے درمیان دمشق میں نئے سفیر کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا جس کی وجہ سے سفیر کا عہدہ خالی رہا ہے اور ناظم الامور ایرانی سفارت خانے کے امور نمٹاتے رہے ہیں۔

شام کے لیے نامزد سفیر جواد ترک عبادی 2011ء سے 2015ء تک خرطوم میں ایران کے سفیر رہے تھے۔ڈیڑھ ایک سال پہلے سودان نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے اور سفارت خانہ بند کرکے عبادی کو واپس بھیج دیا تھا۔سودان سے پہلے وہ بحرین ،نائیجیریا اور کویت میں ایران کے سفیر رہ چکے ہیں۔

ایرانی پارلیمان نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ وہ وزیر خارجہ جواد ظریف سے دمشق میں سفیر کا تقرر نہ ہونے پر پوچھ تاچھ کرے گی۔شام میں ایرانی سفیر محمد رضا رؤف شیبانی اکتوبر 2016ء میں اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ملک واپس آگئے تھے۔

واضح رہے کہ دمشق میں ایرانی سفارت خانے نے شام میں 2011ء سے جاری جنگ میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور وفادار فوج کو مدد بہم پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہیں شام اور ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان باہمی تعاون کو مربوط بنانے اور حکومت مخالف مسلح بغاوت کو کچلنے کے لیے اجلاس منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔