.

شامی دوست ایران کو اپنا دوسرا وطن سمجھیں : مشیر خامنہ ای

حلب کی آزادی ''فتوحات کی فتح'' ہے اور شام اور ایران کی مشترکہ جیت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر برائے امور خارجہ علی اکبر ولایتی نے حلب کی ''آزادی'' کو سراہا ہے اور اس کو ''فتوحات کی فتح'' قرار دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وہ تہران میں شامی وزیر خارجہ ولید المعلم سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔ ولید المعلم اور صدر بشارالاسد کے مشیر برائے قومی سلامتی امور علی مملوک نے ایرانی صدر حسن روحانی ،وزیر خارجہ جواد ظریف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی سمیت اعلیٰ عہدہ داروں سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔

ولیدالمعلم نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے حلب کی ''آزادی'' کو ایران اور شام کی ''مشترکہ فتح'' قرار دیا ہے اور ایران کی جانب سے بھرپور حمایت کو سراہا ہے۔

شامی اخبار الوطن کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر ولایتی نے کہا:'' میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے شامی دوست ایران کو اپنا دوسرا وطن سمجھیں گے۔ ایران کے شام کے ساتھ ایک طویل عرصے سے تزویراتی تعلقات استوار ہیں اور یہ مستقبل میں بھی جاری رہیں گے''۔

شامی وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ان کے ملک میں غیر ملکی جنگجو حکومت کی درخواست پر موجود ہیں۔ان کا اشارہ ترکی کے اس مطالبے کی جانب تھا جس میں اس نے ترکی،روس کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت حزب اللہ سمیت شام سے تمام غیرملکی جنگجوؤں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

بعض حالیہ خفیہ رپورٹس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران شام سے حزب اللہ سمیت اپنے تمام جنگجوؤں کو واپس بلا سکتا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اقدام ترکی اور روس کے درمیان آستانہ سمجھوتے کے تحت ہوگا یا اس کے لیے الگ سے کوئی نیا علاقائی سمجھوتا طے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران نے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں اب تک صدر بشارالاسد کا اقتدار بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس نے پڑوسی ممالک افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو بھی شام میں بھیج رکھے ہیں جو سپاہ پاسداران انقلاب کے فوجیوں کے ساتھ مل کر اور شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ایران دوسرے علاقائی تنازعات عراق اور یمن میں بھی الجھا ہوا ہے اور وہاں بھی فوجی مداخلت کررہا ہے تاکہ اس طرح گماشتہ جنگوں کے ذریعے خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرسکے۔