.

شام میں جنگ بندی معاہدے میں کون سے اپوزیشن گروپ شامل ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں روس اور ترکی مساعی سے شام میں بشارالاسد کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا۔ جنگ بندی معاہدے میں اپوزیشن کی نمائندہ ’جیش الحر‘ کے ماتحت 14 عسکری گروپوں نے بھی دستخط کیے ہیں۔

شام میں جنگ بندی معاہدے کا حصہ بننے والے اپوزیشن کے گروپوں میں ’فیلق الشام‘ سر فہرست ہے۔ اس کے 19 ذیلی گروپ اور 4 ہزار جنگجو ہیں۔ یہ تنظیم حلب، ادلب ، حمات اور حمص میں لڑائی میں حصہ لے چکی ہے۔

دوسری اہم تنظیم ’احرار الشام‘ ہے۔ اس کے 80 ذیلی یونٹ ہیں اور کل جنگجوؤں کی تعداد 16 ہزار ہے۔ یہ گروپ حلب، مضافات حلب، درعا، ادلب، اللاذقیہ، حمات اور حمص میں لڑتی رہی ہے۔

‘ثوار الشام‘ نامی گروپ کے 8 ذیلی بریگیڈ اور 10 ہزار جنگجو ہیں، اس گروپ کا مرکز حلب، ادلب اور اللاذقیہ رہے ہیں۔

عسکری تنطیم سلطان مراد بھی جیش الحر کے وفاداری میں لڑتی رہی ہے۔ حلب اور جنوبی حلب میں اس کے سیکڑوں جنگ سرگرم رہے۔

’صقور الشام‘ نامی گروپ کے 12 ذیلی بریگیڈ ہیں جن سے 16 ہزار جنگجو وابستہ ہیں۔ ادلب اور حلب اس گروپ کے اہم مراکز ہیں۔

الشامی محاذ کے پانچ ذیلی گروپ اور تین ہزار جنگجو ہیں۔ یہ گروپ حلب، ادلب اور دمشق میں لڑائی میں شامل رہا ہے۔

جیش العزۃ شمال مغربی شام میں لڑنے والی اپوزیشن کی تنظیم ہے۔ اس کی زیادہ تر سرگرمیاں ساحلی علاقوں تک محدود ہیں۔

شہداء اسلام بریگیڈ ادلب میں سرگرم رہا، جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں ادلب الحر کے چھ ہزار جنگجو بھی شامل ہیں۔ ادلب، حلب، اللاذقیہ اور حمات ان کے مراکز ہیں۔

جیش الحر کے ماتحت جنگ بندی معاہدے میں شامل ہونے والے گروپوں میں ’فیلق الرحمان‘ بھی شامل ہے۔ یہ تنظیم دارالحکومت دمشق میں سرگرم رہا ہے۔

جیش الاسلام کے 64 ذیلی گروپ ہیں جن سے 12 ہزار افراد وابستہ ہیں حلب، دمشق، درعا، دیر الزور، اللاذقیہ، حمات اور حمص اس کے مراکز ہیں۔