یمنی فوج اور مزاحمتی قوتوں کی حوثیوں کے گڑھ صعدہ کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی فوج اور اس کی اتحادی مزاحمتی قوتوں نے حوثی ملیشیا کے مضبوط گڑھ شمالی صوبے صعدہ کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے تزویراتی اہمیت کے حامل متعدد نواحی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

یمنی فوج اور مزاحمتی قوتوں نے سوموار کے روز بریگیڈ 101 کے کمان مرکز اور الثار اور حبش کے پہاڑوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔حوثی ملیشیا نے صعدہ شہر کا محاصرہ کررکھا ہے اور یہیں سے اس نے گذشتہ سال اکتوبر میں مقدس شہر مکہ مکرمہ کی جانب میزائل داغا تھا۔

درایں اثناء عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ تعز میں بنی عامر اور مقبنہ کے علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور نہم کے محاذ سے بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

اتحادی طیاروں نے صوبہ لہج اور عمران شہر کے جنوب میں ٹیلی مواصلاتی ٹاورز اور ہتھیاروں سے لدے دو ٹرکوں پر بمباری کی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کا قصبے بیحان میں لیڈر احمد عبدالقادر الحاج زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگیا ہے۔ وہ اس قصبے پر قبضے کی لڑائی کے دوران شدید زخمی ہوگیا تھا۔مزاحمتی قوتوں نے اس قصبے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کی اس پیش قدمی سے ایک روز قبل ہی سعودی علاقے نجران کے ساتھ واقع یمن کے سرحدی علاقے میں عرب اتحاد کی فضائی کارروائی اور جھڑپوں میں حوثی باغیوں کے ایک سینئر لیڈر ابو شہاب الحمزی سمیت پچیس جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے حملوں میں حوثی ملیشیا کے سیکڑوں جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

عرب اتحاد سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع یمنی علاقوں میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں اپاچی ہیلی کاپٹر استعمال کررہا ہے اور دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں ان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں