.

ٹرمپ سے مداخلت کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن پر ایرانی رجیم برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اپوزیشن کی نمائندہ 30 شخصیات نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے ایک مشترکہ مکتوب میں ان سے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے شدت پسند حلقوں، ان کے مقرب ذرائع ابلاغ اور حکومتی شخصیات نے اپوزیشن پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

العربیہ ڈات نیٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے مکتوب میں ایرانی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم اور داعش تنظیم ایک ہی سکے دو بد نما رخ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور جمہوری نظام کے قیام کی خاطر خمینی کا قائم کردہ ولایت فقیہ کا نظام حکومت ختم کرایا جائے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب جیسے اداروں اور شخصیات پر اقتصادی پابندیاں عاید کی جائیں کیونکہ پاسداران انقلاب دنیا بھر بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک میں فساد پھیلانے کے لیے دہشت گردوں کو سپورٹ کررہا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ نے نو منتخب صدر کے نام ایرانی اپوزیشن کا مکتوب نشر کیا ہے اور بتایا کہ ایران میں اپوزیشن ملک میں نظام حکومت کی تبدیلی کی خواہاں ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ ایران میں ملائیت پر مبنی نظام حکومت کی جگہ جدید اصولوں کے مطابق جمہوری نظام حکومت رائج کیا جائے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومتی نظام کی تبدیلی عالمی امن کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایران میں تبدیلی سے پوری دنیا میں امن وامان کے قیام میں مدد ملے گی۔ اس مکتوب کے منظرعام پر آنے کے بعد ایرانی جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق علی لاریجانی نے ایک بیان میں اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صادق آملی لاریجانی نے آبائی شہر آملی میں ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ کو ایران میں مداخلت کی دعوت دینے والے انقلاب کے دشمن ہیں۔ اپوزیشن نہیں جانتی کہ ایران میں نظام حکومت کس قدر مضبوط ہے۔