.

استنبول نائیٹ کلب پر حملے کا مبینہ ملزم تفتیش کے بعد رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وسطی ایشیائی ملک کرغستان نے ترکی کے شہر استنبول میں سال نو کے جشن کے موقع پر ایک نائیٹ کلب میں اندھا دھند فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو ہلاک کرنے کے الزام میں جس نوجوان کو قصوار ٹھہرایا جا رہا تھا وہ بے قصور نکلا۔ کرغیز پولیس نے مبینہ ملزم کو حراست میں لے کر چند گھنٹے تک پوچھ گچھ کی مگر اس کا نائیٹ کلب پر فائرنگ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔ خود ملزم بھی اس کارروائی میں ملوث ہونے سے لاتعلقی کا اظہار کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ دو روز کے دوران ترک اور عالمی ذرائع ابلاغ پر ایک نوجوان کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی کے ساتھ گردش کی جا رہی تھیں، جسے سال نو کے جشن کے حوالے سے استنبول کے ایک نائیٹ کلب میں منعقدہ جشن کی تقریب میں فائرنگ کر کے 39 افراد کو ہلاک اور ساٹھ سے زاید کو زخمی کرنے میں ملوث بتایا جا رہا تھا۔

بعد ازاں اس کی شناخت قرغیزستان کےشہری اور یاخیہ ماشرابوف کے نام سے کی گئی تھی۔ اس پر قرغیز پولیس حرکت میں آگئی اور اس نے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر کے اس سے پوچھ گچھ کی۔

کرغیز پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ استنبول نائیٹ کلب پر حملوں میں ماخوذ قرار دیے جانے والے مشتبہ نوجوان سے تفتیش مکمل کرکے اسے چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ اس کا ان حملوں سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ قرغیز پولیس عہدیدار راحات سولیمانوف نے بتایا کہ جس نوجوان کو ترکی میں سال نو کے موقع پر جشن کی تقریب پر فائرنگ کا قصور وار قرار دیا جا رہا تھا وہ بے قصور نکلا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس کے کچھ دوسرے پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

سلیمانوف نے کہا کہ انہوں نے مشتبہ حملہ آور سے تفتیش کے بعد صورت حال سے ترک حکام کو مطلع کردیا ہے۔ اس حوالے سےدونوں ملکوں کی پولیس ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہے۔

قبل ازیں کرغزستان کے ذرائع ابلاغ نے بھی رپورٹس نشر کرنا شروع کی تھیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ استنبول نائیٹ کلب میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کرنے والا شخص کرغیزی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یاخیہ ماشرابوف ترکی تھا جہاں سے وہ گذشتہ روز وطن واپس پہنچا ہے۔ ترک حکام نے اس سے تفتیش کرچکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک حکام نے ماشرابوف سے ہوائی اڈے پر اپنے ملک روانگی سے قبل پوچھ گچھ کی تھی جس نے ’رینا‘ ہوٹل کے ایک کلب میں ہونے والے حملے سے قطعا لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک کاروباری آدمی ہے جو سنہ 2011ء سے کرغستان کے جنوبی علاقے اوچ میں کاروبار کرتا ہے اور کئی بار کاروباری کاموں کے لیے ترکی جا چکا ہے۔ دہشت گردی کی بھی واردات یا کسی تنظیم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ماشرابوف نے بتایا کہ ترک پولیس نے استنبول ہوائی اڈے پر روانگی سے قبل دو گھنٹے تک تفتیش کی جس کے نتیجے میں ان کی بشکیک آنے والی پرواز بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچی۔

خیال رہے کہ یاخیہ ماشرابوف کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر میڈیا پر نشر کی جا رہی ہیں اور ترکی میں نائیٹ کلب پر ہونے والے حملے میں ذمہ دار قرار دیا جا رہا تھا۔

یکم جنوری کی شب ترکی کے شہر استنبول کے مشہور ’رینا نائیٹ‘ کلب میں نامعلوم افراد نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں غیرملکیوں سمیت 39 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے تھے۔ شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جائے وقوعہ کے قریب لگے خفیہ کیمروں سے جو مناظر اور مشتبہ افراد نظر آئے میں یاخیہ ماشرابوف بھی شامل تھا۔