.

الباب میں داعش مخالف کارروائی جلد ختم ہونی چاہیے: ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام کے سرحدی قصبے الباب پر قبضے کے لیے شامی باغیوں کی کارروائی جلد مکمل ہونی چاہیے۔

صوبہ حلب میں واقع الباب پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کررکھا ہے جبکہ ترک فوج اور اس کے حمایت یافتہ شامی باغی گذشتہ کئی روز سے ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔اس محاذ پر لڑائی میں ترک فوج کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

ترک صدر نے بدھ کے روز کہا ہے:''شام میں ہمیں امید ہے کہ الباب میں مختصر وقت میں کارروائی مکمل ہوجائے گی۔اس کی تکمیل کے بعد ہم دہشت گرد تنظیموں کے زیر قبضہ دوسروں علاقوں کو پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ بالخصوص منبج میں کارروائی کی جائے گی''۔

منبج الباب سے پچاس کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔اس قصبے پر امریکا کی حمایت یافتہ کرد،عرب جمہوری فورسز کا کا قبضہ ہے۔ترکی کرد ملیشیا پی وائی ڈی کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کی شامی شاخ قراردیتا ہے۔

صدر طیب ایردوآن نے ترکی کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کا تعلق شام میں دہشت گرد کے خاتمے سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ایک ذہنی سانچا ترکی کی اپنی سلامتی کے لیے جدوجہد کو دوسری ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت قراردیتا ہے۔ یہ وہی ذہنی سانچا ہے جو کچھ بھی سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ایک ایسے ملک کو، جو داعش کے خلاف عظیم جدوجہد کی قیادت کررہا ہے،دہشت گردی کے حامی کے طور پر پیش کرنا دراصل اس دہشت گرد تنظیم کے موقف ہی کی ترجمانی ہے کیونکہ وہ بھی یہی چاہتی ہے''۔

ترک صدر نے سوشل میڈیا اور دوسرے چینلوں کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے ترکی کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

ترک صدر نے اتوار کی شب استنبول کے ایک نائٹ کلب پر حملے کے حوالے سے کہا کہ ''اس کا ترکی کے مختلف طرزہائے زندگی پرالزام دھرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ترکی میں کسی کا بھی طرز زندگی کسی منظم خطرے کی زد میں نہیں ہے اور ہم اس کی ہرگز بھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے''۔