ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں جرمنی میں پاکستانی کا ٹرائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جرمن حکام نے بتایا ہے کہ ایک پاکستانی شہری کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمنی کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ 31 سالہ سید مصطفیٰ آتش پر الزام ہے کہ وہ سنہ 2011ء کے بعد سے مسلسل ایرانی خفیہ اداروں سے رابطے میں رہا ہے۔ اس نے ایرانی اداروں سے بھاری قوم کے عوض چھ سال تک ان کے لیے جاسوسی کی ہے۔

پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق ملزم کا پورا نام ظاہر نہیں کیا گیا جرمن اور اسرائیلی آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین کے بارے میں ایرانی خفیہ اداروں کو معلومات فراہم کی تھیں۔ ایران کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار پاکستانی شہری کے خلاف جرم ثابت ہونے کی صورت میں پانچ سال قید اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔

جرمن پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ پاکستانی جاسوس کو رواں سال جولائی میں ملک کے شمالی شہر پریمن سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم کا مذہبی تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب جرمنی میں کسی پاکستانی شہری پر ایران کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ گذشتہ برس اپریل میں ایسے ہی ایک کیس میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان پر ایرانی اپوزیشن مجاھدین خلق کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں