.

دریا کنارے برمی بچے کی تصویر نے ایلان کردی کی یاد تازہ کردی

10 ماہ کا بچہ خاندان کے ہمراہ میانمار سے بنگلہ دیش جاتے ہوئے کشتی کے حادثے کا شکار ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار سے تعلق رکھنے والے ایک روہنگیا مسلم بچے کی دریا کے کنارے کیچڑ میں لت پت مردہ حالت میں تصویر نے شامی مہاجر بچے ایلان کردی کی یاد تازہ کردی ہے۔

ایلان کردی کی دل دہلا دینے والی تصویر 2015ء میں منظرعام پر آئی تھی اور وہ اپنے والدین کے ہمراہ ترکی کے ساحل سے یونان کی جانب جاتے ہوئے بحر متوسط میں کشتی ڈوب جانے سے مارا گیا تھا اور اس کی لاش تیرتے ہوئے سمندر کنارے آ لگی تھی اور وہ ساحل سے ایک ترک فوجی کو ملی تھی۔اس وقت وہ اوندھے منھ لیٹا ہوا تھا۔

اب بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان سرحدی علاقے میں بہنے والے دریا ناف کے کنارے سے دس ماہ کے برمی بچے کی تصویر منظرعام پر آئی ہے۔وہ بھی ایلان کردی کی طرح کیچڑ میں لت پت اوندھے میں پڑا ملا ہے۔

بنگلہ دیش کی ایک نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس بچے کی تصویر پہلے ایک ویب پورٹل ''روہنگیاس ،روہنگیا وژن'' پر پوسٹ کی گئی تھی۔یہ بچہ اپنے خاندان کے ہمراہ ایک کشتی پر سوار میانمار سے بنگلہ دیش کی جانب جا رہا تھا لیکن ان کی کشتی دریا ناپ کے بیچ ڈوب گئی تھی۔ اس کشتی پر اس کے خاندان سمیت پینتیس افراد سوار تھے اور وہ میانمار کی فوج اور انتہا پسند بدھ متوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر اپنے ملک سے راہ فرار اختیار کررہے تھے۔فوری طور پر اس بچے کا پورا نام معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

درایں اثناء میانمار پولیس کے ریاست راکھین (ارکان) میں روہنگیا مسلمانوں کو اجتماعی انداز میں تشدد کا نشانہ بنانے کی ایک نئی ویڈیو منظرعام پر آئی ہے۔میانمار کے حکام نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو اوندھے منھ لٹا کر تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس افسروں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہے۔

اس ویڈیو سے میانمار حکومت کے لیے اب سکیورٹی فورسز کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم اور وحشیانہ تشدد کی اطلاعات کی تردید کرنا مشکل ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ قبل ازیں حکومت روہنگیا مسلمانوں سے انسانیت سوز سلوک ،ان کے مکانوں کو نذر آتش کرنے ،قتل اور ان کی عورتوں سے اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔

روہنگیا میانمار کی مغربی ریاست اراکان میں آباد ہند آریائی لوگ ہیں۔ میانمار حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان کی تعداد گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن انھیں بڑے منظم انداز میں سیاسی نمائندگی کے حق اور دیگر شہری حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ان کے دیہات پر بدھ مت سکیورٹی فورسز کی سرپرستی میں وقفے وقفے سے حملے کرتے رہتے ہیں۔ان کے خلاف وحشیانہ فوجی کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ جانیں بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا رُخ کررہے ہیں۔

غیر مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی آبادی قریباً تیرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ملک کی اکثریتی آبادی بدھ مذہب کی پیروکار ہے اور اس مذہب کے انتہا پسند ایک عرصے سے مسلمانوں سے انسانیت سوز سلوک کررہے ہیں۔