.

سیاسی مکالمے سے قبل شدت پسندی کی شکست اہم ہے: لیبیائی فوجی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر کا کہنا ہے کہ فایز السراج کے زیر قیادت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے دوبارہ آغاز کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

منگل کے روز ایک اطالوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں حفتر نے واضح کیا کہ السراج کی حکومت کے ساتھ سابقہ بات چیت کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا.. اور موجودہ صورت حال اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ سیاسی طور پر حرکت میں آںے سے قبل شدت پسند تنظیموں کو شکست دے دوچار کیا جائے۔

حفتر کے مطابق سلامتی کونسل کی ہتھیاروں پر عائد پابندی سے اسلحے کے لیبیا پہنچنے پر روک لگ گئی ہے تاہم روسی صدر ولادیمر پوتن اس پابندی کو ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ حفتر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ملک ہمیشہ اٹلی کا خیر مقدم کرتا ہے تاہم روم کا آخری موقف افسوس ناک ہے جس میں وہ لیبیا کے دشمنوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ لبیبا کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔

پارلیمنٹ اسپیکر کے پاس مصری تجاویز

دوسری جانب لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح کا کہنا ہے کہ لیبیا میں سیاسی بحران کے حل کے لیے انہیں مصر کی جانب سے متعدد تجاویز کی سپورٹ حاصل ہے۔

حال ہی میں ماسکو اور قاہرہ کا دورہ کرنے والے صالح کے مطابق ان تجاویز میں وفاقی حکومت سے علاحدہ ہونے والی صدارتی کونسل کے ارکان کی تعداد کم کر کے چار تک کر دینا شامل ہے۔ چار ارکان میں ایک صدر اور تین ارکان پارلیمنٹ ہوں گے جو لیبیا کے تین صوبوں کی نمائندگی کریں گے۔

اس کے علاوہ وزارت عظمی اور صدارتی کونسل کو علاحدہ رکھنے اور فوج کے کمانڈر کے پاس وزیر کے اختیارات ہونے پر حکومت میں وزیر دفاع کا منصب ختم کرنے کی بھی تجاویز ہیں۔